LIVE
Loading Breaking News...

جن زی انقلاب کا لیبل اور جنوبی ایشیا کی احتجاجی تحریکیں

News Image
بھارت سمیت جنوبی ایشیا میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریکوں کو محض 'جن زی' یا نسل در نسل لیبل دینا زمینی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اس طرح کی افقی تحریکیں اگرچہ حکمرانوں پر دباؤ ڈالتی ہیں لیکن منظم قیادت کے بغیر بڑی ساختی تبدیلی لانے سے قاصر رہتی ہیں۔
جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی احتجاجی تحریکوں کو مغربی اور مقامی میڈیا کی جانب سے اکثر 'جن زی' (Gen-Z) انقلاب کا نام دیا جاتا ہے۔ نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور اب بھارت میں ہونے والے ان مظاہروں کو ایک ہی نسل کے کھاتے میں ڈالنا فکری طور پر سست روی اور حقائق سے چشم پوشی کی علامت ہے۔ ساٹھ کی دہائی کی عالمی طلبہ تحریکوں کو کبھی 'بومر اپسرج' یا نوے کی دہائی کے مظاہروں کو 'جن ایکس' کے نام سے نہیں پکارا گیا تھا۔ اس قسم کی اصطلاحات کا آغاز دراصل کارپوریٹ کلچر کی دین ہے، جہاں سب سے پہلے پیپسی کے ایک متنازع اشتراک نے 2017 میں بلیک لائفز میٹر موومنٹ کے دوران اس اصطلاح کو تجارتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے بعد سے ہر نوجوان طبقے کے احتجاج کو اس نام سے لیبل کرنے کا رواج عام ہو گیا۔ اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ان ممالک میں ہونے والے احتجاج کی وجوہات یکسر مختلف اور مخصوص معاشی و سیاسی بحرانوں سے جڑی ہیں۔ سری لنکا کا بحران شدید معاشی بدحالی، ایندھن اور خوراک کی قلت کا نتیجہ تھا، جبکہ بنگلہ دیش میں طلبہ کا غصہ سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم سے شروع ہو کر آمرانہ حکومت اور بے روزگاری کے خلاف وسیع بغاوت میں تبدیل ہوا۔ نیپال میں نوجوانوں کی تحریک سرکاری بدعنوانی اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کے خلاف اٹھی۔ اسی طرح بھارت میں بھی نوجوانوں کی معاشی مشکلات، بے روزگاری اور امتحانوں میں بے ضابطگیوں نے ایک نئی ہلچل پیدا کی ہے۔ سی ایس ڈی ایس لوک نیتی کے اعداد و شمار کے مطابق، ماضی میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی کامیابی کی بڑی وجہ یہی متوسط طبقے کے نوجوان تھے، جو اب معاشی مایوسی کے باعث موجودہ حکومت سے کترانے لگے ہیں۔ ان تحریکوں کے حوالے سے دو اہم پہلو ایسے ہیں جن پر گہرے تجزیے کی ضرورت ہے۔ پہلا یہ کہ یہ تمام تحریکیں افقی (Horizontal) نوعیت کی ہیں، یعنی ان کی کوئی باقاعدہ منظم پارٹی یا مرکزی قیادت موجود نہیں ہوتی۔ نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی یہی صورتحال دیکھی گئی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ افقی نوعیت کی تحریکیں کسی ناپسندیدہ رہنما کو تو اقتدار سے ہٹا سکتی ہیں لیکن نظام کی جڑوں کو تبدیل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ عرب بہار کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں آمر تو رخصت ہوگئے لیکن ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا۔ سوڈان کی 2018 کی نوجوانوں کی تحریک اس کی ہولناک مثال ہے جہاں ڈکٹیٹر کے خاتمے کے بعد ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ منظم تنظیم اور اجتماعی شعور کے بغیر اٹھنے والی یہ لہریں بعض اوقات ریاست کو شدید خطرات سے دوچار کر دیتی ہیں۔ ربڑ بینڈ کی مانند، اگر اسے حد سے زیادہ کھینچا جائے تو یا تو وہ اپنی اصل حالت میں واپس آ جاتا ہے یا پھر ٹوٹ جاتا ہے۔ بھارت کے تناظر میں اگرچہ فی الحال نریندر مودی کی حکومت کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے، لیکن نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی اور حکومت سے دوری اس بات کا اشارہ ہے کہ روایتی سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو اس تبدیلی کا ادراک کرنا ہوگا۔ صرف ایک جنریشن کا لیبل لگا دینے سے گہرے مسائل حل نہیں ہو سکتے، بلکہ اس کے لیے پالیسی کی سطح پر بنیادی اصلاحات اور عوام کے ساتھ سنجیدہ مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔