World
سوئس گلیشیئرز کا نقصان، پانی کے ذخائر کو خطرہ
سوئٹزرلینڈ کے گلیشیئرز کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رواں سال شدید برفانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے مستقبل میں پانی کی سپلائی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی موجودہ رفتار کے پیش نظر اتنی تیزی سے برف کا پگھلنا اب کوئی حیران کن بات نہیں رہی۔
سوئٹزرلینڈ میں گلیشیئرز کو ایک بار پھر انتہائی تباہ کن سال کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث برف کے بڑے بڑے تودے غیر معمولی رفتار سے پگھل رہے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف ماحول دوستوں اور ماہرینِ ماحولیات کی نیندیں اڑا دی ہیں بلکہ مستقبل میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ سوئس سائنسدانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی یہ رفتار انتہائی تشویشناک ہے اور اس نے ملک کے قدرتی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق اور اعداد و شمار کے مطابق، گلیشیئرز کی یہ تیزی سے گھٹتی ہوئی جسامت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کرہ ارض کا درجہ حرارت تیزی سے بلند ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی اس تیز رفتار دنیا میں اب گلیشیئرز کا اس طرح تیزی سے پگھلنا کوئی حیران کن امر نہیں رہا کیونکہ دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج اور گلوبل وارمنگ کے اثرات دن بہ دن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال کے طویل مدتی اثرات صرف سوئٹزرلینڈ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے پورے خطے میں پانی کے وسائل، دریاؤں کے بہاؤ اور پن بجلی کی پیداوار پر بھی برے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین نے ایک بار پھر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور ماحول کو بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں ورنہ آنے والے برسوں میں دنیا کو مزید سنگین ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔