World
یوکرین جنگ: روسی صدر پیوٹن کا حملے جاری رکھنے کا اعلان
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حالیہ خارجہ پالیسی تقریر پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، تاہم تمام اشارے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملہ جاری رہے گا۔ ماسکو کی جانب سے جاری جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے دی جانے والی حالیہ خارجہ پالیسی کی تقریر پر عالمی برادری کی جانب سے انتہائی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ تمام موجودہ اشارے اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ روس کا یوکرین کے خلاف جاری مکمل پیمانے پر فوجی آپریشن کسی بھی صورت تھمنے والا نہیں۔ جنگ کے طول پکڑنے سے خطے میں تناؤ مزید بڑھتا جا رہا ہے اور امن کی تمام کوششیں فی الحال ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔
روسی حکومت اور صدر پیوٹن کے حالیہ بیانات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ماسکو اپنے عسکری مقاصد کے حصول کے لیے یوکرین میں کارروائیاں جاری رکھنے پر بضد ہے۔ مغربی ممالک اور اتحادیوں کی جانب سے عائد کردہ سخت اقتصادی پابندیوں کے باوجود روس کی جنگی حکمت عملی میں کوئی نمایاں لچک دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس تنازعے نے نہ صرف یورپی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب، یوکرین کے صدر اور ان کے مغربی حلیف اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ روسیجارحیت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے جائیں گے۔ یوکرین کو جدید دفاعی سازوسامان کی فراہمی کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے تاکہ وہ روسی فوجیوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکے۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ دونوں فریقین میں سے کوئی بھی فی الحال مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار نہیں ہے، جس سے اس تباہ کن جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔