World
برطانیہ میں قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کا نیا منصوبہ اور تفصیلات
انگلینڈ اور ویلز میں حکومت کی نئی قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کی اسکیم کے تحت سینکڑوں اہل مجرم یکم اکتوبر کو جیلوں سے رہا ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد جیلوں میں بڑھتی ہوئی گنجائش کے بحران سے نمٹنا ہے۔
برطانیہ کے محکمہ انصاف کے ذرائع کے مطابق انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش کے بحران کو کم کرنے کے لیے ایک نیا اور جامع لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔ اس نئے منصوبے کے تحت سیکڑوں اہل مجرموں کو ان کی سزا کا ایک مخصوص حصہ پورا کرنے کے بعد یکم اکتوبر کو جیلوں سے رہا کر دیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم جیلوں میں بڑھتی ہوئی بھیڑ کو کنٹرول کرنے اور نظامِ عدل کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس رہائی کے عمل کے دوران سکیورٹی اور عوامی تحفظ کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ صرف ان مجرموں کو اس اسکیم کے تحت رہا کیا جائے گا جو قانونی طور پر اس کے اہل قرار دیے گئے ہیں اور جن کے بارے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ معاشرے کے لیے خطرہ نہیں بنیں گے۔ متعلقہ محکمے نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تمام شرائط کی سخت جانچ پڑتال کے بعد ہی رہائی کے پروانے جاری کیے جائیں گے۔
اس منصوبے کے ناقدین اور حامیوں کے درمیان بحث کا سلسلہ بھی جاری ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں یہ فیصلہ کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ جیلوں میں جگہ کی کمی کے باعث انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، جس سے جیل کے اندر اصلاحی پروگراموں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ یکم اکتوبر کو ہونے والی ان رہائیوں کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ صورتحال میں کچھ بہتری آئے گی اور جیلوں کا نظام بہتر ہو سکے گا۔