LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کی آٹو پالیسی میں اصلاحات: کیا کار ساز ادارے عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں؟

News Image
پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کو بین الاقوامی سطح پر مسابقتی بنانے اور مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن بڑھانے کے لیے نئی پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ ماضی کی ترجیحات، جن میں محض لوکلائزیشن اور محدود روزگار شامل تھے، ملکی معیشت کو مطلوبہ فوائد دینے میں ناکام رہی ہیں۔
پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری ملکی صنعتی پالیسی کے تضادات اور الجھنوں کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ جب بھی حکومت ٹیرف میں کمی پر غور کرتی ہے، تو مینوفیکچررز کی جانب سے کارخانے بند ہونے، روزگار کے مواقع ختم ہونے اور سرمایہ کاری ضائع ہونے کے انتباہات سامنے آ جاتے ہیں۔ دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ چالیس سال سے زائد عرصے تک حفاظتی اقدامات اور پروٹیکشن ملنے کے باوجود صارفین کو مہنگی اور محدود آپشنز والی گاڑیاں ملیں جبکہ برآمدات نہ ہونے کے برابر رہیں۔ دونوں فریقوں کے مؤقف میں کچھ وزن موجود ہے، لیکن اصل بحث کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ملک کی آٹو انڈسٹری ایسی صلاحیتیں پیدا کر سکتی ہے جو علاقائی اور عالمی ویلیو چینز میں مقابلہ کر سکیں؟ پالیسی کی رہنمائی کے لیے ایک ہی اصول ہونا چاہیے کہ کسی بھی صنعت کو تحفظ دینے کے بدلے صارفین کو بہتر قیمت اور بین الاقوامی مسابقت فراہم کرنا ہوگی۔ ماضی میں پاکستان کی آٹو پالیسی چند بنیادی غلط فہمیوں کا شکار رہی ہے، جن میں سب سے پہلی غلطی لوکلائزیشن کا تصور تھا۔ پالیسی سازوں کا خیال تھا کہ ملک کے اندر زیادہ سے زیادہ پرزہ جات تیار کرنے سے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم ہوگا۔ لیکن انہوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ جدید گاڑیاں کیسے بنتی ہیں۔ انجن، ٹرانسمیشن، فیول انجیکشن سسٹمز اور سافٹ ویئر گاڑی کی اصل قیمت کا بڑا حصہ ہوتے ہیں، جنہیں مسابقتی انداز میں بنانے کے لیے آٹوموٹو گریڈ اسٹیل، پیٹرو کیمیکلز اور پریزیشن انجینئرنگ جیسی بنیادی صنعتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان نے کبھی یہ بنیادیں بڑے پیمانے پر استوار نہیں کیں، اس لیے لوکلائزیشن کا ہدف محض اعداد و شمار کا کھیل بن کر رہ گیا۔ اس کے علاوہ، لوکلائزیشن کے یہ اعداد و شمار بھی گمراہ کن ہیں کیونکہ وہ اندرون ملک جڑنے والے پرزوں کی گنتی کرتے ہیں نہ کہ حقیقی ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن کی۔ نشستیں، بیٹریاں، ٹائر اور شیشے مقامی طور پر بن سکتے ہیں لیکن ان کے لیے خام مال اور سانچے درآمد شدہ ہوتے ہیں۔ دوسری بڑی غلطی ملازمتوں کے حوالے سے تھی۔ آٹو موبائل مینوفیکچرنگ ایک سرمائے کی طلب رکھنے والا شعبہ ہے جو کہ بھاری آٹومیشن پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا اسمبلر ڈھائی ہزار سے بھی کم افراد کو براہ راست ملازمت دیتا ہے، جبکہ سپلائرز مزید ملازمتیں پیدا کرتے ہیں تاہم ملنے والے تحفظ کے تناسب سے کل افرادی قوت اب بھی بہت کم ہے۔ تیسری بڑی غلطی سکیل یا پیمانے کی تھی کیونکہ مسابقتی مینوفیکچرنگ کے لیے لاکھوں گاڑیوں کی پیداوار درکار ہوتی ہے تاکہ مقررہ اخراجات کو کم کیا جا سکے، جبکہ پاکستان کی سالانہ مارکیٹ تین لاکھ گاڑیوں سے بھی کم ہے۔ حکومت کی پالیسی نے موٹر گاڑیوں کو عیش و آرام کی اشیاء سمجھ کر ٹیکسوں کے ذریعے مانگ کو مزید کم کر دیا، جس سے کارکردگی متاثر ہوئی۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے پرانی بحث کو مزید بے معنی کر دیا ہے۔ اب عالمی صنعت اندرونی احتراق والے انجنوں (ICE) سے نکل کر ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس تبدیلی نے ان تمام پرزوں کی اہمیت کم کر دی ہے جن پر پاکستان کی پرانی لوکلائزیشن کی حکمت عملی کھڑی تھی۔ اب قدر بیٹریاں، الیکٹرک موٹرز، پاور الیکٹرانکس اور سافٹ ویئر کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ پاکستان کو اب کل کی ٹیکنالوجی کے بجائے نئی اور جدید ضروریات کے مطابق صنعتی پالیسی ڈیزائن کرنا ہوگی۔ ہائبرڈ گاڑیاں اس ضمن میں ایک بہترین عملی پل ثابت ہو سکتی ہیں جو کم ایندھن کھپت اور کم اخراج کے ساتھ ساتھ چارجنگ انفراسٹرکچر کے بڑے مسائل سے بھی بچاتی ہیں۔ پالیسی کا ہدف اب زیادہ لوکلائزیشن نہیں بلکہ اعلیٰ گھریلو ویلیو ایڈیشن، برآمدات اور تکنیکی صلاحیتوں کا فروغ ہونا چاہیے۔