Health
امریکہ میں خسرہ کی وباء، پنسلوانیا میں پانچویں موت کی تصدیق
امریکہ کے شہر پنسلوانیا میں خسرہ سے ہونے والی پانچویں ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق کر دی گئی ہے۔ اگست کے بعد سے کیسز کی تعداد دگنی ہو چکی ہے جبکہ وفاقی صحت کے حکام کے ساتھ اموات کی گنتی پر تنازع بھی جاری ہے۔
امریکہ کے صوبے پنسلوانیا میں صحت کے حکام نے خسرہ (Measles) کے مرض سے پانچویں ہلاکت کی باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے۔ ملک بھر میں اس خطرناک وائرس کی وباء میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے طبی ماہرین اور عام شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق، اگست کے مہینے سے لے کر اب تک خسرہ کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد میں دوگنا سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جو کہ صحت عامہ کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
اس سنگین صورتحال کے ساتھ ساتھ، اموات کی درست تعداد کو لے کر وفاقی صحت کے حکام اور مقامی طبی اداروں کے درمیان ایک تنازع بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ وفاقی حکام اور مقامی ماہرین اعداد و شمار کے حوالے سے متفق نظر نہیں آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے وباء کے اصل اثرات کا اندازہ لگانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو ہوا کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے اور ویکسینیشن کے بغیر یہ چھوٹے بچوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والے نئے کیسز نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں کمی اس وباء کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ صحت کے اداروں نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین ضرور لگوائیں۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے اس مرض پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن کیسز میں مسلسل اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر مزید سخت طبی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ اس جان لیوا وباء کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔