LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سینیٹ نے اے آئی ڈیٹا سینٹرز بل مسترد کر دیا

News Image
امریکی سینیٹ نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی قیمتوں سے متعلق ایک اہم بل کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹک اراکین نے اس بل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے بے اثر قرار دیا ہے اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز سے جڑے بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے پیش کیا جانے والا ایک اہم بل ناکام ہو گیا ہے۔ قانون سازوں کی جانب سے اس بل پر طویل بحث کی گئی، تاہم اسے حتمی منظوری کے لیے درکار حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ اس فیصلے کے بعد ٹیکنالوجی کے شعبے اور توانائی کے ماہرین کی آراء تقسیم ہو گئی ہیں، کیونکہ حالیہ برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ بجلی کی کھپت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دوسری جانب، ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے اس بل کو مسترد کیے جانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ موجودہ مسودے میں ایسے کوئی موثر یا لازمی اقدامات شامل نہیں تھے جو عام شہریوں پر پڑنے والے بجلی کے اضافی بوجھ کو کم کر سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی جانب سے بجلی کی بے پناہ کھپت کے باعث عام صارفین کے لیے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے، اور حکومت کو اس معاملے میں سخت ریگولیٹری پالیسیاں اپنانی چاہئیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے انتہائی طاقتور سرورز اور کولنگ سسٹمز کی ضرورت ہوتی ہے، جو میگا واٹس کی تعداد میں بجلی استعمال کرتے ہیں۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بڑے ہو رہے ہیں، توانائی کی طلب میں بھی کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر اس شعبے کے لیے توانائی کے نئے اور پائیدار ذرائع نہ تلاش کیے گئے، تو آنے والے دنوں میں قومی گرڈز پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اب جب کہ سینیٹ نے اس مخصوص بل کو مسترد کر دیا ہے، آئندہ دنوں میں اس مسئلے پر مزید قانون سازی کی توقع کی جا رہی ہے۔ ڈیموکریٹک رہنمائوں کا ارادہ ہے کہ وہ ایسے نئے اور زیادہ سخت بل ایوان میں پیش کریں جن میں ڈیٹا سینٹرز کے مالکان کو توانائی کے استعمال اور اس کی قیمتوں کے حوالے سے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ عوام اور صنعت کار دونوں ہی اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ حکومت آنے والے وقت میں توانائی اور ٹیکنالوجی کے اس توازن کو کیسے برقرار رکھتی ہے۔