World
ہانگ کانگ میں صحافی غداری کے الزام میں گرفتار، پریس فریڈم کو تشویش
ہانگ کانگ کے حکام نے پرنس ایڈورڈ اسٹیشن پر ہونے والے تصادم کی ویڈیو پر ایک میڈیا بانی کو غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ اس گرفتاری کے بعد بین الاقوامی پریس فریڈم تنظیموں نے ہانگ کانگ میں آزادی صحافت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہانگ کانگ کی انتظامیہ نے آزادی صحافت پر ایک اور سخت وار کرتے ہوئے ایک نمایاں میڈیا بانی کو غداری کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری پرنس ایڈورڈ اسٹیشن پر ماضی میں ہونے والے ایک پُرتشدد تصادم سے متعلق مبینہ ویڈیو مواد کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا سمجھا جا رہا ہے۔ مقامی قوانین کے تحت اس نوعیت کے الزامات کے سنگین قانونی نتائج ہو سکتے ہیں اور ملزم کو طویل قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، پریس فریڈم اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے ہانگ کانگ کے حکام کے اس اقدام کو آزادی اظہار اور میڈیا پر قدغن لگانے کی ایک اور کڑی قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد ناقدین کو خاموش کرنا اور میڈیا کے اداروں میں خوف کی فضا پیدا کرنا ہے تاکہ حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی آواز کو دبایا جا سکے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ہانگ کانگ میں پچھلے چند سالوں کے دوران اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف قانونی شکنجہ مسلسل کسا جا رہا ہے، جس سے خطے میں جمہوری اقدار اور شخصی آزادیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد مقامی اور بین الاقوامی میڈیا حلقوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گرفتار صحافی کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور آزادیِ صحافت کے بنیادی اصولوں کا احترام کیا جائے۔