World
خواجہ آصف کا بیان: پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پرعزم
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ بننے والے کسی بھی تنازع میں اس کا دفاع کرے گا۔ انہوں نے حوثیوں کی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد دوطرفہ دفاعی معاہدوں کے تحت ریاض کے ساتھ کھڑا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی تنازع کی صورت میں سعودی عرب کی مدد اور دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ خواہ وہ یمن کے حوثی ہوں، کوئی دوسرا ملک یا کوئی اور گروہ جو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے، پاکستان ریاض کے دفاع کے لیے وہاں موجود ہوگا۔ ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں تیزی آئی ہے اور بحیرہ احمر میں کشیدگی برقرار ہے۔ خواجہ آصف نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حوثی سعودی عرب کے خلاف جارحیت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حوثی سعودی عرب کے دشمن ہیں اور سعودی عرب کا ہر دشمن پاکستان کا بھی دشمن ہے، یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے۔ وزیر دفاع نے یاد دلایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی انتظامات موجود ہیں، جن کے تحت اسلام آباد اپنے تمام دستیاب وسائل سعودی عرب کو فراہم کرنے کا پابند ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں ریاض کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے ہیں جن میں ستمبر میں طے پانے والا اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ ڈیفنس الائنس شامل ہیں، جن کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں یا تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی حال ہی میں بیان دیا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا اور مملکت کی سلامتی کے ساتھ وابستگی غیر مشروط ہے۔