Politics
اقوام متحدہ کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی فوری رہائی کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے ماہرین نے انسانی حقوق کے وکلاء ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی دوبارہ گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جوڑے کے خلاف مقدمات اظہار رائے کی آزادی کو دبانے اور وکلاء کو خوف زدہ کرنے کی کوشش ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے انسانی حقوق کی نامور وکیل ایمان زینب مزاری حطیر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی فوری رہائی کا پرزور مطالبہ کیا ہے اور ان کی دوبارہ گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس جوڑے کو ایک متنازعہ سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں عدالت کی طرف سے ضمانت ملنے کے فورا بعد ایک پرانے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے اسپیشل ریلیچیور آن ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس جوڑے کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف تمام بے بنیاد مجرمانہ اور دہشت گردی کے الزامات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ضمانت ملتے ہی کسی پرانے مقدمے کو دوبارہ زندہ کرنا دراصل انصاف کے نظام کو بنیادی حقوق کے دفاع اور اظہار رائے کی آزادی کی سزا کے طور پر استعمال کرنے کی ایک واضح کوشش معلوم ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں اسلام آباد کی ایک سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق پیکا (PECA) قانون کے تحت اس جوڑے کو مختلف الزامات میں مجموعی طور پر سترہ سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کی ملکی و بین الاقوامی سطح پر سخت مذمت کی گئی تھی۔ بعد ازاں، ستمبر میں سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ان کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ان کی رہائی کا حکم صادر کیا تھا، لیکن جیل سے باہر آتے ہی انہیں ایک اور مقدمے میں دبوچ لیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ جنوری سے اس پورے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی یہ رائے ہے کہ یہ تمام کارروائی ان وکلاء کو سزا دینے، ڈرانے اور اس پیشے سے وابستہ دیگر افراد کو ایک خوفناک پیغام دینے کے مترادف ہے۔ ماہرین نے انسداد دہشت گردی کے مبہم قوانین کے اس طرح کے استعمال کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور اصول حکومتوں کو یہ ذمہ داری سونپتے ہیں کہ وہ وکلاء کو ہر قسم کی ہراسانی، دباؤ اور غیر ضروری مداخلت سے محفوظ رکھیں تاکہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض بغیر کسی خوف کے انجام دے سکیں۔ آخر میں، اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس جوڑے کو ان کی مرضی کے وکلاء تک رسائی، اہل خانہ سے ملاقات اور طبی سہولیات بلا تعطل فراہم کی جائیں۔