LIVE
Loading Breaking News...

دبئی سے تل ابیب پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ، پائلٹس زخمی

News Image
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی جہاں دونوں پائلٹس کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پرواز کے دوران عملے اور پائلٹس کے درمیان لڑائی اور ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز کو بدھ کے روز سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، جب پرواز کے دوران مبینہ طور پر پائلٹس کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں دو پائلٹ زخمی ہو گئے۔ سعودی ہوائی اڈے کا انتظام چلانے والی کمپنی کے بیان کے مطابق، فلائی دبئی کی یہ پرواز تبوک میں صبح 9 بج کر 45 منٹ پر اتری، جہاں کپتان اور کو پائلٹ کو زخمی حالت میں فوری طور پر اسپتال پہنچا دیا گیا۔ اس کم لاگت ایئر لائن نے پہلے بتایا تھا کہ پرواز ایف زیڈ 1073 کو راستے میں ایک ناخوشگوار واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ طیارہ تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتر گیا اور تمام مسافر بالکل محفوظ اور تندرست بتائے گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا ذرائع کے مطابق طیارے کے پائلٹس کے درمیان کسی بات پر تنازعہ اور لڑائی شروع ہو گئی تھی جس کے باعث ہنگامی سگنل بھی فعال کیا گیا تھا۔ اسرائیلی میڈیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ طیارے میں مسافر کی حیثیت سے سوار دو دیگر پائلٹس نے کاک پٹ کا کنٹرول سنبھال لیا اور سعودی عرب میں اس ہنگامی لینڈنگ کو ممکن بنایا۔ متعلقہ حکام یا ایئر لائن نے تاحال اس واقعے کی مکمل تفصیلات یا پائلٹس کی قومیت کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا، تاہم بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ واقعہ انتہائی ڈرامائی انداز میں پیش آیا جس سے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ فلائٹ ریڈار کی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پرواز نے اچانک بلندی کھو دی اور طیارہ چند منٹوں کے اندر ہزاروں فٹ نیچے آ گیا۔ پرواز نے اردن کی فضائی حدود سے سعودی عرب کی جانب رخ کیا اور عام ہنگامی سگنل کے ساتھ ساتھ غیر قانونی مداخلت کا اشارہ دینے والا سگنل بھی دیا۔ بوئنگ 737 کا یہ طیارہ شمال مغربی سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر اترنے سے پہلے کئی بار ریڈیو سگنل تبدیل کرتا رہا۔ طیارے پر سوار مسافروں کے والدین اور لواحقین نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بچوں نے انہیں فون اور پیغامات کے ذریعے واقعے کی ہولناک تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مسافروں کے مطابق دوران پرواز مسافروں نے مداخلت کر کے صورتحال کو قابو میں کیا اور خون آلود مناظر بھی دیکھے گئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور دیگر حکام نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ تحقیقات کا دائرہ کار بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ کوئی تکنیکی خرابی تھی، آپسی تنازعہ تھا یا کسی بڑے حادثے کو روکنے کی کوشش تھی۔ فلائی دبئی اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اصل حقائق کا پتہ لگایا جا سکے۔