Pakistan
صومالیہ میں بحری قزاقوں کے خلاف آپریشن، تین پاکستانی جاں بحق
ترجمان دفتر خارجہ نے صومالیہ کے ساحل پر بحری جہاز کو قزاقوں سے آزاد کرانے کی کارروائی میں تین پاکستانی شہریوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ کارروائی کے دوران چار افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے سے تیل بردار جہاز کو چھڑانے کے لیے کیے گئے ایک آپریشن کے دوران تین پاکستانی شہریوں سمیت پانچ عملے کے ارکان جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ صومالیہ کے ساحل پر پیش آیا جہاں اپریل کے مہینے سے اغوا کیے جانے والے 'ایم ٹی آنر 25' نامی تیل بردار جہاز کو بازیاب کرانے کے لیے نیم خود مختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے منگل کو ایک باقاعدہ آپریشن کیا تھا۔ پلاؤ کے جھنڈے والے اس جہاز پر مجموعی طور پر انیس افراد سوار تھے جن میں دس پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طویل بحران کے دوران جہاز پر موجود عملے کو سنگین مشکلات کا سامنا رہا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں چار افراد زخمی بھی ہوئے جن میں تین پاکستانی شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں ضروری طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، بچ جانے والے دیگر عملے کے ارکان کو بحفاظت پنٹ لینڈ کے ساحلی قصبے بندر بیلہ پہنچا دیا گیا ہے، جہاں جوبوتی میں پاکستان کا سفارتی عملہ بھی ان کی معاونت کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔
پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس کے مطابق، بندر بیلہ کے علاقے میں کی جانے والی اس کارروائی کے دوران اکیس مشتبہ قزاقوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔ کارروائی شروع ہونے سے پہلے قزاقوں نے عملے کے پانچ ارکان کو قتل کر دیا تھا جن میں تین کا تعلق پاکستان، ایک کا میانمار اور ایک کا بھارت سے تھا۔ واضح رہے کہ اس جہاز کے اغوا کے بعد سے عملے کے ارکان نے کئی بار ویڈیوز کے ذریعے خوراک اور پانی کی کمی کی شکایات کی تھیں اور ان کے اہل خانہ نے عالمی اداروں سے مدد کی اپیل کی تھی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان صومالی حکام اور متعلقہ عالمی اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے جسد خاکی کو وطن واپس لانے، زخمیوں کی دیکھ بھال اور تمام بقایا عملے کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صومالی بحری قزاقوں کی سرگرمیوں میں حالیہ مہینوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے سدباب کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔