LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا کی نہر میں شارک کا پھنس جانا، چھ لاکھ افراد کی آمد

News Image
جنوبی کوریا کی بندرگاہ بوسان کی ایک تنگ نہر میں پھنسی ساڑھے تین میٹر لمبی شارک کو دیکھنے کے لیے دو ہفتوں کے دوران چھ لاکھ افراد پہنچ گئے۔ حکام کی جانب سے شارک کو سمندر میں واپس لے جانے کی کوشش فی الحال ناکام ہو گئی ہے۔
جنوبی کوریا کی بندرگاہ بوسان کے ایک آبی گزرگاہ میں پھنسی ساڑھے تین میٹر لمبی شارک ملک بھر میں وائلڈ لائف کی نئی سنسنی بن گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اس انوکھے مہمان کو دیکھنے کے لیے تقریبا چھ لاکھ افراد نے اس مقام کا رخ کیا ہے۔ یہ شارک پہلی بار اٹھارہ ستمبر کو شمالی بندرگاہ کی ایک تنگ نہر میں دیکھی گئی تھی، جہاں یہ طویل عرصے تک سمندر کا راستہ تلاش کرنے میں ناکام رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب شارک خود باہر نہ نکل سکی تو متعلقہ حکام نے منگل کے روز اسے بحفاظت کھلے سمندر میں واپس پہنچانے کے لیے ایک ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا، جو کہ بدقسمتی سے ناکام ثابت ہوا۔ کوسٹ گارڈ اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے کشتیوں کی مدد سے شارک کے پیچھے پانی کی پچکاریاں ماریں تاکہ اسے آہستہ آہستہ کھلے سمندر کی طرف دھکیلا جا سکے، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق شارک پانی کے ان دھاروں سے الٹ سمت میں تیر گئی۔ اب حکام کی جانب سے جمعہ کے روز اس شارک کو باہر نکالنے کے لیے خصوصی جال استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس شارک کو مقامی لوگوں کی طرف سے 'بوکانگی' کا نام دیا گیا ہے، جو کہ بوسان کے شمالی نام اور کوریائی لاحقے کا امتزاج ہے۔ گزشتہ ہفتے چھٹیوں کے دوران واٹر فرنٹ پارک میں تقریبا چار لاکھ اسی ہزار افراد نے اس شارک کا نظارہ کیا۔ عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بوسان شہر کی انتظامیہ نے انسٹاگرام پر ایک پول کے بعد اس شارک کو شہر کا اعزازی پبلک ریلیشنز سفیر بھی مقرر کر دیا ہے۔ جنوبی کوریا میں اس سے پہلے بھی جانوروں کے شہر میں نکل آنے کے مختلف واقعات نے عوام کی توجہ حاصل کی ہے، جو ملک بھر میں موضوع بحث بنتے رہے ہیں۔