LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی ایم این اے کا دباؤ مسترد، احتجاجی مارچ کی حمایت

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے ایک رُکنِ قومی اسمبلی نے حکومتی دباؤ کے تمام ہتھکنڈوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے چار اکتوبر کے طے شدہ احتجاجی مارچ کے منصوبے کی بھرپور تائید کی ہے۔
اسلام آباد کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل اس وقت دیکھنے میں آئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رُکن قومی اسمبلی نے حکومتی حلقوں کی طرف سے مبینہ طور پر استعمال کیے جانے والے دباؤ کے تمام ہتھکنڈوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پارٹی کے نظریے اور قیادت کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کی دھمکیوں یا دباؤ سے ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ رُکن اسمبلی نے واضح کیا کہ پارٹی کے اندر سیاسی استحکام اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اس پیشرفت کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے آئندہ کے لائحہ عمل بالخصوص چار اکتوبر کو متوقع احتجاجی مارچ کے حوالے سے تیاریاں بھی زور و شور سے جاری ہیں۔ پارٹی قیادت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حامیوں کو منظم کرے تاکہ احتجاجی پروگرام کو کامیاب بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق، پارٹی کے اندر حکمت عملی پر طویل غور و خوض کیا جا رہا ہے جس میں مارچ کے لیے محفوظ اور مؤثر راستوں کا انتخاب بھی شامل ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں کی جانب سے مارچ کے التواء یا مؤقف میں نرمی لانے کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں، تاہم اکثریت کا ماننا ہے کہ عوامی طاقت کا مظاہرہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پس پردہ رابطوں اور مذاکرات کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، تاہم پی ٹی آئی نے باضابطہ طور پر کسی بھی پس پردہ رابطے کی تردید کی ہے۔ پارٹی ترجمان اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کے لیے تیار ہیں مگر اس کے ساتھ اپنے سیاسی حقوق اور احتجاج کے آئینی حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں فریقین کے درمیان ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اور براہ راست مذاکرات کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک کو مزید سیاسی بحران سے بچایا جا سکے۔