LIVE
Loading Breaking News...

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور محصولات میں اضافے کی تحسین

News Image
بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور مجوزہ سبسڈی کے منصوبوں کو سراہا ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری اقتصادی جائزے کے دوران معاشی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری اقتصادی جائزے کے دوران پاکستان کی معاشی کارکردگی بالخصوص محصولات میں اضافے اور سبسڈی کے نئے منصوبوں کو مثبت قرار دیا گیا ہے۔ حکارتی ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں ٹیکس وصولیوں میں ہونے والے اضافے نے عالمی قرض دہندہ ادارے کو مطمئن کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے دونوں فریقین کے درمیان معاشی امور پر بہتر ہم آہنگی دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے وفد کو ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران حکومت نے واضح کیا ہے کہ معیشت کو مزید کسی غیر یقینی یا بیرونی جھٹکوں سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ اصلاحات کا عمل متاثر نہ ہو۔ سیاسی میدان میں ہونے والی ہلچل اور دوسری جماعتوں کے درمیان ہونے والی پیشرفت کے باوجود معاشی پالیسیوں کے تسلسل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت اہم سیاسی حلقے بھی آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق قانون سازی کے معاملات پر ایک صفحے پر نظر آتے ہیں، تاکہ ملک کو معاشی استحکام کی طرف گامزن رکھا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے سبسڈی کے منصوبوں کو بھی اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ اس کا بوجھ عام آدمی کے بجائے براہ راست مستحقین تک پہنچے، جس پر آئی ایم ایف کے حکام نے اطمینان کا اظہار کیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر معاشی اصلاحات کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو ملک جلد ہی طویل مدتی معاشی استحکام کی منزل حاصل کر لے گا۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین یہ مثبت پیشرفت ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔