LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز سے خام تیل کی برآمدات بحال، قیمتوں میں کمی

News Image
آبنائے ہرمز کے راستے خام تیل کی برآمدات ایک بار پھر جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ گئی ہیں جس سے عالمی سطح پر سپلائی کے خدشات کم ہوئے ہیں۔ خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل بحال ہونے اور سعودی عرب میں پائپ لائن کی بحالی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کے انتہائی اہم بحری راستے سے خام تیل کی برآمدات ایک بار پھر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو گئی ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈی میں سپلائی کے حوالے سے پائے جانے والے شدید خدشات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مثبت پیش رفت کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے اور یہ نیچے آ کر 96 ڈالر فی بیرل تک ٹمبل کر گئی ہیں۔ خلیجی خطے سے تیل کے بہاؤ میں اس اچانک اضافے اور بحالی نے مارکیٹ کے تاجروں کو بڑی حد تک پرسکون کر دیا ہے، جو پچھلے کچھ عرصے سے سپلائی کے تعطل کے باعث پریشان تھے۔دوسری جانب، اگرچہ خام تیل کی ترسیل بڑی حد تک معمول پر آ چکی ہے تاہم ریفائنڈ فیول اور دیگر ایندھن کی مصنوعات کی ترسیل پر اب بھی کچھ پابندیاں اور رکاوٹیں برقرار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی ترسیل کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ مزید وقت لگ سکتا ہے۔ اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششیں بھی تیل کی عالمی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں اور سرمایہ کار انمفتوحہ سفارتی مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی آئندہ کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے، کیونکہ خطے میں تناؤ کے خاتمے کے آثار سے تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام کی توقع کی جا رہی ہے۔علاوه ازیں، سعودی عرب کی جانب سے بھی اہم نوعیت کے اقدامات کیے گئے ہیں جہاں پائپ لائن کی کامیاب بحالی کے بعد ینبع (Yanbu) کے مقام پر تیل کی لوڈنگ کا عمل باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ڈان اور دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس تنصیب کے کھلنے سے خلیجی تیل کی برآمدات کو ایک نیا اور مضبوط سہارا ملا ہے۔ اس بحالی سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی معیشت کو تقویت مل رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی طلب کو پورا کرنے میں بھی بڑی مدد مل رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔