Business
کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ اور تازہ ترین نرخ
یکم اکتوبر سے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ گھریلو استعمال کے سلنڈر کے نرخ برقرار رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایوی ایشن ٹربائن فیول یعنی جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
نئی دہلی اور دیگر علاقوں میں تہواروں کے سیزن کی آمد سے بالکل پہلے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ایل پی جی (LPG) سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہونے والی ان نئی قیمتوں کا اطلاق ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر تجارتی اداروں پر پڑے گا جو کمرشل سلنڈر استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، عام صارفین کے لیے راحت کی بات یہ ہے کہ گھریلو استعمال کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہ اپنے پرانے نرخوں پر ہی دستیاب ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں تقریباً بیس روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے کاروباری طبقے اور خاص طور پر فوڈ انڈسٹری پر مالی بوجھ میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ تہوار کے دنوں میں کمرشل گیس کی کھپت میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ دوسری جانب، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو فی الحال مستحکم رکھا گیا ہے، جس سے عام ٹرانسپورٹ اور روزمرہ کی اشیاء کی نقل و حمل پر فوری طور پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔
اس کے علاوہ، ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) یا جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی فی لیٹر نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ جیٹ فیول کی قیمتوں میں ہونے والے اس اضافے سے ایئر لائنز کے اخراجات میں براہ راست اضافہ ہو گا، جس کے نتیجے میں ہوائی سفر کے ٹکٹ مہنگے ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مجموعی طور پر مہنگائی کے رجحان کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کاروباری اداروں کو اپنے اخراجات کا از سر نو جائزہ لینا پڑ رہا ہے۔
حکومت اور تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات کا مقصد عالمی منڈی کے اتار چڑھاو کو متوازن رکھنا ہے، تاہم اس سے مقامی سطح پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ عام صارفین اور کاروباری حضرات دونوں ہی آنے والے دنوں میں مہنگائی کے اس نئے دور کے اثرات سے بچنے کے لیے حکومتی پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔