Entertainment
ٹام کروز کی نئی فلم ڈیگر اور آسکر کے امکانات
ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹام کروز نے اپنی نئی فلم 'ڈیگر' میں کیریئر کا سب سے بڑا رسک لیا ہے جسے ناقدین کی جانب سے محبت اور نفرت دونوں طرح کی آراء مل رہی ہیں۔ کیا یہ فلم باکس آفس پر کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ اکیڈمی ایوارڈز یعنی آسکر میں جگہ بنا پائے گی، اس حوالے سے شائقین میں تجسس پایا جاتا ہے۔
ہالی ووڈ کے مایہ ناز اور ایکشن ہیرو ٹام کروز نے اپنی اداکاری کے کیریئر میں ایک نہایت جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے اپنی نئی فلم 'ڈیگر' شائقین کے سامنے پیش کر دی ہے۔ اس فلم کو لے کر فلمی حلقوں اور ناقدین کے درمیان شدید بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ اسے ٹام کروز کے کیریئر کا سب سے بڑا اور خطرناک رسک قرار دیا جا رہا ہے۔ فلمی تجزیہ کار اسے محبت اور نفرت کے درمیان ایک متنازعہ تجربہ قرار دے رہے ہیں جہاں کچھ مبصرین نے اس کی تعریف کی ہے تو وہیں کچھ نے اس پر کڑی تنقید بھی کی ہے۔
بی بی سی اور یو ایس اے ٹوڈے سمیت کئی معروف میڈیا اداروں نے اس فلم پر اپنے تبصرے شائع کیے ہیں۔ جہاں کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فلم انتہائی اوچھی تنقید اور سنیما کی روایتی حدود کو توڑنے کی ایک ناکام کوشش ہے، وہیں دوسری طرف بعض فلمی پنڈتوں نے اس کی انفرادیت کو سراہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم سازوں نے منفی جائزوں کو بھی اپنی تشہمیر کا حصہ بنا لیا ہے اور نئی اشتہاری مہمات میں انہیں دلیری کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شائقین کو سنیما گھروں کی طرف کھینچا جا سکے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ فلم آسکر ایوارڈز کی دوڑ میں کوئی مقام بنا پائے گی یا نہیں۔ ورائٹی اور ہالی ووڈ رپورٹر جیسی نامور ویب سائٹس کے مطابق، وارنر برادرز کے لیے باکس آفس پر حالیہ سال کچھ زیادہ سودمند ثابت نہیں ہوا، اس لیے 'ڈیگر' کی کامیابی اسٹوڈیو اور خود ٹام کروز کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ شائقین اور ناقدین کی نظریں اب اس بات پر ٹکی ہوئی ہیں کہ آیا یہ بولڈ پروجیکٹ اکیڈمی ایوارڈز کے ججوں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔