World
دبئی تل ابیب پرواز حملہ: اسرائیلی وزیراعظم کا بیان سامنے آ گیا
اسرائیل جانے والے طیارے میں ایک پائلٹ کی جانب سے دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ واقعہ کے محرکات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو نے کہا ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے دوران ایک پائلٹ کی جانب سے دوسرے پائلٹ پر کیے گئے حملے کے محرکات کے بارے میں بات کرنا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پرواز اپنے راستے پر تھی اور عملے کے اراکین کے درمیان اچانک تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ اطلاعات کے مطابق حملے میں ایک پائلٹ زخمی ہوا جبکہ دوسرے کو قابو کر لیا گیا۔ اس واقعے کے بعد طیارے کے حوالے سے سکیورٹی کے امور پر سوالات اٹھنے شروع ہو گئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز سعودی عرب میں کیا جا رہا ہے، جہاں متعلقہ حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ پائلٹ پر حملے کے اس واقعے کی تفتیش سعودی عرب کے اندر کی جا رہی ہے اور تفتیش کار تمام شواہد کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ چونکہ تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، اس لیے یہ کہنا بہت مشکل اور قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے کے پیچھے اصل محرکات یا وجوہات کیا تھیں۔
ایسا واقعہ ایوی ایشن کی تاریخ میں انتہائی غیر معمولی اور تشویشناک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ پرواز کے دوران کاک پٹ میں اس قسم کا تشدد سینکڑوں مسافروں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ہوا بازی کے ماہرین اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس واقعے کے بعد فضائی سفر کی حفاظتی پالیسیوں اور عملے کی ذہنی صحت کے حوالے سے بھی بحث شروع ہو چکی ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کوئی ذاتی رنجش تھی یا کوئی اور گہری سازش کارفرما تھی۔
آنے والے دنوں میں اس تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کی توقع ہے، جس کے بعد اس واقعے کی اصل حقیقت واضح ہو سکے گی۔ دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ اس منفرد اور خطرناک واقعے پر مرکوز ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کے حوالے سے یہ واقعہ ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن کر ابھرا ہے۔