LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور معاشی خطرات: بینک آف انگلینڈ کی اہم وارننگ

News Image
بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلے نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں بڑی پیمانے پر کی جانے والی سرمایہ کاری عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید جھٹکوں کا باعث بن سکتی ہے۔ مرکزی بینک اس شعبے میں آنے والے فنڈز کے بہاؤ پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
برطانیہ کے مرکزی بینک یعنی بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلے نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری سرمایہ کاری کا غیر معمولی عروج عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے بڑے جھٹکوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس نئی لہر کے دوران دنیا بھر سے اربوں ڈالر اس شعبے میں انڈیلے جا رہے ہیں، جس پر ماہرینِ معیشت اور مالیاتی ادارے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔اینڈریو بیلے کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک اس صورتحال کا انتہائی قریب سے جائزہ لے رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی جہاں ایک طرف مختلف صنعتوں میں انقلاب برپا کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف اس میں موجود غیر یقینی مالیاتی توقعات مارکیٹ کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ماضی میں بھی نئی ٹیکنالوجیز کے ابھرنے کے دوران 'ببل' یا غبارے پھٹنے کی تاریخ موجود ہے، اور حکام اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ موجودہ اے آئی کا عروج کسی بڑے مالیاتی بحران میں تبدیل نہ ہو۔معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اے آئی کمپنیوں کی آمدنی اور ان کی مارکیٹ ویلیو کے درمیان توازن برقرار نہ رہا تو اس کے اثرات صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ بینک آف انگلینڈ کی جانب سے یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کے سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کو مستقبل کی سب سے بڑی معاشی قوت قرار دے کر اس میں اندھا دھند سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ مرکزی بینک کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر مالیاتی تجزیہ کار اس ٹیکنالوجی کے معاشی اثرات پر مزید سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سخت ضابطہ اخلاق کی توقع کی جا رہی ہے۔