Politics
مودی حکومت کا ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات پر دوٹوک مؤقف
بھارت نے طویل انتظار کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے اختلافات پر کھل کر بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ ملکی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث اب نئی دہلی نے دہشت گردی اور ٹیرف جیسے اہم امور پر دوٹوک مؤقف اپنانا شروع کر دیا ہے۔
کئی ماہ تک خاموشی اور انتظار کی پالیسی اپنانے کے بعد، بھارتی حکومت نے اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے پالیسی اختلافات پر کھل کر بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ ملکی سطح پر بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی دباؤ کے پیش نظر نئی دہلی نے یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اپنے مفادات کا بھرپور دفاع کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، یہ تبدیلی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کا اشارہ دیتی ہے جہاں بھارت اب امریکہ کے سامنے اپنی شرائط اور تحفظات کو واضح انداز میں پیش کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی امور، محصولات یعنی ٹیرف اور سکیورٹی سے جڑے معاملات پر کئی اہم سوالات اٹھے ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ٹیرف کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، جو کہ امریکی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے بھی دونوں دارالحکومتوں کے درمیان بعض نکات پر اختلافات پائے جاتے ہیں جنہیں اب کھل کر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کھلے پن کے پیچھے اندرونی سیاست کا بھی بڑا ہاتھ ہے، کیونکہ اپوزیشن کی طرف سے حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ واشنگٹن کے سامنے کمزور نظر نہ آئے۔ اس صورتحال میں مودی حکومت نے یہ تہے دل سے فیصلہ کیا ہے کہ قومی مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھا جائے گا۔ اگرچہ اس روش سے وقتی طور پر دو طرفہ تعلقات میں تناؤ آ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ حکمت عملی بھارت کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی اس بدلتی ہوئی حرکیات سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری اپنی جگہ اہم ہے، مگر اب قومی خودمختاری اور تجارتی پالیسیوں پر کوئی لچک دکھانے سے دونوں فریق گریزاں نظر آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری بھی اس نئی سفارتی کشمکش پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جس کے اثرات جنوبی ایشیا اور عالمی سیاست دونوں پر مرتب ہوں گے۔