World
سوئس گلیشیئرز تباہ کن سال، پانچ فیصد برف پگھل گئی
سائنسدانوں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے گلیشیئرز اس سال شدید گرمی کی لہروں کے نتیجے میں بہت زیادہ برف سے محروم ہو گئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث دنیا بھر میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ایک انتہائی تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات اور سائنسدانوں نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ رواں سال سوئٹزرلینڈ کے گلیشیئرز کے لیے ایک تباہ کن سال ثابت ہوا ہے۔ شدید گرمی کی لہروں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے نتیجے میں سوئس گلیشیئرز اپنی مجموعی برف کا تقریباً پانچ فیصد حصہ کھو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے پگھلنے کی یہ رفتار انتہائی خطرناک ہے اور اس سے آنے والے برسوں میں دنیا بھر میں پانی کے بحران سمیت ماحولیاتی توازن کے بگڑنے کا شدید خدشہ ہے۔
حالیہ برسوں میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے یورپ اور بالخصوص الپس کے پہاڑی سلسلوں میں گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ موسمِ گرما کے دوران طویل اور شدید ہیٹ ویوز نے سوئٹزرلینڈ کے گلیشیئرز کو شدید متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے برف کے بڑے تودے انتہائی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ سائنسی اداروں کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کا اس طرح ریکارڈ سطح پر پگھلنا نہ صرف مقامی ماحولیات کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں اضافے کا بھی ایک بڑا سبب بن رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دہائیوں میں دنیا کے بیشتر گلیشیئرز ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی برادری اور ماحولیاتی تنظیموں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ فوری طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ٹھوس حکمتِ عملی اپنائیں۔ حکومتوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ماحول دوست پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کرہ ارض کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔