Technology
جنوبی کوریا کی برآمدات میں تاریخی اضافہ، اے آئی کا کردار
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شدید طلب کی وجہ سے جنوبی کوریا کی برآمدات میں حیرت انگیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سیمی کنڈکٹرز کی زبردست مانگ کے باعث ملک کی برآمدات پہلی بار 120 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
جنوبی کوریا کی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں ملک کی برآمدات نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے عروج کی بدولت تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ نے ملکی تجارت کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں 83.5 فیصد کا شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد برآمدات کی مالیت پہلی بار 120 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سنگ میل جنوبی کوریا کی عالمی ٹیک مارکیٹ میں برتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس نمایاں اضافے کے پیچھے بنیادی محرک مصنوعی ذہانت کے لیے تیار کردہ جدید مائیکرو چپس اور سیمی کنڈکٹرز ہیں۔ دنیا بھر میں اے آئی سسٹمز کی تیاری اور ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ کی وجہ سے ایڈوانسڈ ہارڈویئر کی مانگ میں بے پناہ تیزی آئی ہے۔ جنوبی کوریا کے سرکردہ تکنیکی اداروں اور کارخانوں نے اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے اپنی پیداوار کو دوگنا کر دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات ملکی برآمدی اعداد و شمار پر مرتب ہوئے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی اس رجحان کے برقرار رہنے کی توقع ہے کیونکہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کی تحقیق اور ترقی پر بھاری سرمائے کی کاری کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف جنوبی کوریا کے تجارتی خسارے کو کم کیا ہے بلکہ ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کو بھی ایک نیا اور مضبوط سہارا فراہم کیا ہے۔ حکومت اور کاروباری حلقے اس کامیابی کو ملکی تاریخ کا ایک روشن باب قرار دے رہے ہیں۔