LIVE
Loading Breaking News...

ٹینیسی میں کرسٹا پائیک کی سزائے موت کی کوشش ناکام اور اسپتال منتقلی

News Image
امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی قیدی کرسٹا پائیک کو زہر کا انجکشن دینے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ وکلاء کے مطابق اسے ایمبولینس کے ذریعے جیل سے لے جایا گیا جہاں اسپتال میں اس کا علاج جاری ہے۔
امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں انتہائی ہائی سیکیورٹی جیل میں بند سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک کو مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی جب مبینہ طور پر تکنیکی یا طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام اور قانونی نمائندوں نے تصدیق کی ہے کہ اس کارروائی کے بعد قیدی کی حالت بگڑنے پر اسے فوری طور پر ایک قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ریاست میں نافذ عمل سزائے موت کے طریقہ کار پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس نوعیت کے سزائے موت کے پروٹوکولز پر طویل عرصے سے تنقید کرتی چلی آ رہی ہیں۔ قانونی ذرائع اور وکلاء کے مطابق، کرسٹا پائیک کو جیل کے احاطے سے ایک ایمبولینس کے ذریعے انتہائی رازداری اور سخت حفاظتی حصار میں اسپتال روانہ کیا گیا۔ اسپتال میں اس وقت طبی عملہ ان کی دیکھ بھال کر رہا ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے مزید طبی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس ڈرامائی واقعے نے ایک بار پھر ریاست میں سزائے موت کے قانونی اور اخلاقی پہلوؤں کو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ واضح رہے کہ کرسٹا پائیک کو برسوں قبل ایک سنگین قتل کیس میں عدالت کی جانب سے موت کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ طویل عرصے سے ٹینیسی کی موت کی چکی میں قید تھیں۔ اس حالیہ واقعہ کے بعد ان کے وکلاء نے فوری طور پر عدالت اور جیل حکام سے رابطہ کیا ہے تاکہ آئندہ کے قانونی لائحہ عمل کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس غیر معمولی صورتحال نے جیل کے اندر سزائے موت دینے کے انتظامات اور طبی عملے کی تیاریوں پر بھی گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔