LIVE
Loading Breaking News...

امریکی وزیر دفاع کا فوج میں بیس فیصد کمانڈرز کو برطرف کرنے کا اعلان

News Image
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے فوج کے اعلیٰ ترین افسران کی تعداد میں نمایاں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت بیس فیصد جنرلز اور ایڈمرلز کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے امریکی فوج کے ڈھانچے میں ایک انتہائی اہم اور ڈرامائی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈرز کے خلاف سخت اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، پیٹ ہیگسیٹھ نے واضح کیا ہے کہ وہ فوج کے اندر موجود تمام جنرلز اور ایڈمرلز میں سے بیس فیصد کو ان کے عہدوں سے فارغ کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ امریکی عسکری قیادت میں اصلاحات اور بیوروکریسی کو کم کرنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ مانا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں سنسنی پھیل گئی ہے کیونکہ اتنے بڑے پیمانے پر اعلیٰ فوجی افسران کی برطرفی کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد امریکی فوج کی کمانڈ اور کنٹرول کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ پیٹ ہیگسیٹھ جو کہ اپنے سخت اور بے باک فیصلوں کے لیے جانے جاتے ہیں، اس قدم کے ذریعے عسکری اخراجات کو کم کرنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے فوج کے اندر کچھ بے چینی پیدا ہو سکتی ہے جبکہ حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ دفاعی اداروں کی تنظیم نو کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔ برطرف کیے جانے والے افسران میں مختلف شاخوں کے اعلیٰ ترین جرنیل اور بحریہ کے ایڈمرلز شامل ہیں جن کے خلاف یہ کارروائی آنے والے دنوں میں عملی جامہ پہنائی جائے گی۔ اس فیصلے کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں کیونکہ امریکہ کی عسکری قیادت دنیا بھر کی سلامتی اور حکمت عملی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان اور متعلقہ حکام اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ واضح کیا جا سکے کہ اس تبدیلی کا حتمی خاکہ کیا ہوگا۔ دوسری جانب، امریکی کانگریس اور قانون ساز بھی اس غیر معمولی فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کے ملکی دفاع اور فوجی صلاحیتوں پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے، جبکہ پیٹ ہیگسیٹھ اپنے فیصلے پر اٹل نظر آتے ہیں۔