LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کا ایران پر فوجی اڈے کے سکیورٹی واقعے میں ملوث ہونے کا الزام

News Image
برطانوی رہنما اینڈی برنہم نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے ایک اہم اور حساس فوجی اڈے پر پیش آنے والے مبینہ سکیورٹی واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔ دوسری جانب ایران نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
برطانیہ کے اعلیٰ حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر ایک اہم برطانوی فضائی اڈے پر پیش آنے والے مبینہ سکیورٹی واقعے کے پیچھے ہو سکتا ہے۔ برطانوی سیاستدان اینڈی برنہم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے حوالے سے ایسے مضبوط اشارے ملے ہیں جو کسی بیرونی طاقت بالخصوص ایران کی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ فضائی اڈہ، جو کہ پاک فضائیہ یا دیگر اتحادی مقاصد کے ساتھ ساتھ امریکی افواج کے زیر استعمال بھی رہتا ہے، انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس خطرے کے اصل محرکات کا پتہ لگایا جا سکے۔ دوسری جانب تہران نے ان الزامات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو سراسر جھوٹا، بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مغرب کی طرف سے ایسے الزامات لگانے کا مقصد خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینا اور ایران کے خلاف پروپیگنڈا مہم کو تیز کرنا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے سے ایران کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے اور اس قسم کے بے بنیاد الزامات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس تازہ ترین تنازعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس سے پہلے ہی کشیدہ عالمی صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر مزید شواہد سامنے آنے کے بعد ہی اصل حقائق واضح ہو سکیں گے، تاہم فی الحال سفارتی سطح پر دونوں جانب سے لفظی جنگ تیز ہو چکی ہے۔