LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

News Image
پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے نپے تلے فضائی حملے کیے ہیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
جمعرات کے روز وزارت اطلاعات نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف انتہائی منصوبہ بند اور نپے تلے فضائی حملے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں وزارت نے واضح کیا کہ یہ حملے آپریشن 'غضب للحق' کے تسلسل میں کیے گئے ہیں اور اس کا مقصد ملک سے دہشت گردوں، ان کے نیٹ ورکس اور تمام سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ بیان کے مطابق ان ہوائی حملوں میں ان دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جنہیں سرکاری طور پر 'فتنہ الخوارج' اور 'فتنہ الہندستان' کا نام دیا گیا ہے۔ حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے فتنہ الخوارج کی اصطلاح استعمال کرتی ہے جبکہ بلوچستان میں سرگرم کالعدم اور فنڈڈ گروہوں کو فتنہ الہندستان کہا جاتا ہے تاکہ پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے میں بھارت کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق انٹیلی جنس کی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے کیمپوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں بائیس دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ان کے خفیہ ٹھکانوں پر موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان ہمیشہ پرامید رہا ہے، لیکن افغانستان بدستور دہشت گردی کا گڑھ بنا ہوا ہے جہاں سے پاکستان کے خلاف خطرات پیدا ہوتے ہیں۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کارروائی کے دوران تمام تر احتیاط برتی گئی تاکہ کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ اسلام آباد کی طرف سے بارہا کابل میں طالبان انتظامیہ سے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور بالخصوص ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ کرے، تاہم افغان جانب سے ان مطالبات پر خاطر خواہ عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ سیکورٹی امور کے ماہرین اور بین الاقوامی رپورٹس بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے پاک افغان تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بیرونی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آپریشن 'غضب للحق' پوری رفتار سے جاری رہے گا اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔