LIVE
Loading Breaking News...

حکومت کا آئی ایم ایف سے مذاکرات میں معاشی استحکام پر زور

News Image
پاکستانی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آگاہ کیا ہے کہ معیشت پر مزید کسی بھی ہنگامی جنگی یا ناگہانی واقعے کے اثرات نہیں آئیں گے۔ حکام نے محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی ہے جس پر عالمی ادارے نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسو را نیوز اردو) پاکستانی حکام نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات میں واضح کیا ہے کہ ملک اب مزید کسی جنگی یا ہنگامی صورتحال کے منفی مالیاتی اثرات کا متحمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ایسے کسی اثر کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان جاری اقتصادی جائزوں اور قرض پروگرام کے تحت ہونے والی ملاقاتوں میں معاشی صورتحال کا احاطہ کیا گیا۔ حکومت نے مؤقف اپنایا ہے کہ ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور محصولات میں ہونے والا حالیہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، محصولات میں نمایاں اضافے اور حکومتی سطح پر تیار کردہ نئی سبسڈی اسکیمز کو آئی ایم ایف کے وفد کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ مالیاتی ادارے کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی ان ملاقاتوں میں مالی سال 27 کے لیے قرض لینے کے منصوبے کا بھی خاکہ پیش کیا گیا، جبکہ آئی ایم ایف نے مجموعی ملکی قرضوں کی سطح پر بعض خدشات کا اظہار بھی کیا۔ تاہم، پاکستانی معاشی ٹیم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قرضوں کے پائیدار انتظام کے لیے سخت مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے گا اور اصلاحاتی ایجنڈے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ادھر ملک میں مہنگائی کی شرح ستمبر 2026ء کے دوران 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں معاشی اشاریوں میں ایک متوازن تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنے اور عوامی سطح پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہدف بند سبسڈیز کا مؤثر نظام لایا جا رہا ہے تاکہ مالیاتی نظم و ضبط بھی متاثر نہ ہو اور عام آدمی کو بھی سہولت مل سکے۔ علاوہ ازیں، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کے قرض کے اجرا اور موسمیاتی تبدیلی کے فنڈز و پروگرامز کے حوالے سے بھی باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے گرین انرجی اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت روایتی معاشی اہداف کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔