LIVE
Loading Breaking News...

مصطفیٰ کمال: پاکستان طویل مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا

News Image
متحّدہ قومی موومنٹ کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر پاکستان مزید کسی طویل مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے تمام تنازعات سڑکوں کے بجائے پارلیمنٹ اور باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما اور سینیٹر مصطفیٰ کمال نے موجودہ ملکی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت پاکستان کا معاشی ڈھانچہ مزید کسی بھی سیاسی ہلچل، دھرنے یا طویل مارچ کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی معیشت پہلے ہی شدید ترین چیلنجز سے گزر رہی ہے اور ایسے میں کسی بھی قسم کی سیاسی محاذ آرائی ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اپنے ایک بیان میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہوگا۔ ملک کو اس وقت شدید معاشی اور انتظامی بحران کا سامنا ہے، جس سے نکلنے کے لیے قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں جاری تمام سیاسی مسائل اور اختلافات کا حل سڑکوں پر احتجاج، دھرنوں یا طویل مارچ کی صورت میں نہیں تلاش کیا جانا چاہیے، بلکہ اس کے لیے تمام فریقین کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہمی مذاکرات کے ذریعے سنجیدہ بات چیت کا راستہ اپنانا ہوگا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مصطفیٰ کمال کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بلند ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین بھی متفق ہیں کہ سیاسی عدم استحکام براہ راست ملکی تجارت، سرمایہ کاری اور عام عوام کی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست دانوں کی جانب سے اب افہم و تفہیم اور بات چیت کی فضا قائم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ملک کو مزید معاشی نقصانات سے بچایا جا سکے۔ آخر میں، مصطفیٰ کمال نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی اور دیگر بنیادی مشکلات کی چکی میں پس رہے ہیں، اور انہیں اس وقت دھرنوں یا مارچ کی نہیں بلکہ ریلیف اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ تمام رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ مل بیٹھ کر ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا لائحہ عمل تیار کریں۔