World
فلائی دبئی پرواز واقعہ: پائلٹ کے حملے کی تحقیقات شروع
فلائی دبئی کی پرواز کے دوران ایک پائلٹ کی جانب سے کو پائلٹ پر حملے کے واقعے کے بعد عالمی سطح پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ مبینہ حملہ آور پائلٹ کو پرواز کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔
دبئی کی معروف ایئرلائن فلائی دبئی کی ایک پرواز کے دوران پیش آنے والے ایک تشویشناک واقعے نے پوری دنیا میں ہوا بازی کی صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پرواز کے دوران ایک پائلٹ نے مبینہ طور پر اپنے کو پائلٹ پر حملہ کر دیا، جس کے بعد اس بات پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس پائلٹ کو فلائنگ کلیئرنس کیسے دی گئی تھی۔ اس خطرناک صورتحال نے مسافروں کی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا، تاہم عملے کی بروقت اور بہادرانہ کارروائی سے ایک بڑا فضائی سانحہ ٹل گیا۔ واقعے کے بعد طیارے کا رُخ موڑنا پڑا اور اسے فوری طور پر محفوظ مقام پر اتارا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس ہنگامہ خیز واقعے کے دوران ایک اور کیپٹن، سمت مچھڑ (Smit Machchhar) نے انتہائی شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ ذرائع اور مسافروں کے مطابق، کیپٹن مچھڑ نے، جنہیں ایک خوش مزاج اور ذمہ دار فیملی مین کے طور پر جانا جاتا ہے، اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حملہ آور کو قابو کیا اور طیارے کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک مسافر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس ہولناک لمحے میں جب طیارہ اچانک نیچے کی طرف غوطہ زن ہوا تو انہوں نے اپنے بچوں کو گلے لگا لیا تھا اور انہیں لگا کہ اب ان کا بچنا ناممکن ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں اس بات کا کھوج لگا رہی ہیں کہ اس افسوسناک حملے کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے اور آیا حملہ آور پائلٹ کی ذہنی صحت کا معائنہ کرنے میں کہاں کوتاہی برتی گئی۔ ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات ایئرلائنز کی سکیورٹی اور پائلٹوں کے نفسیاتی ٹیسٹ کے طریقہ کار پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا اور ایوی ایشن سکیورٹی ایجنسیز اس پورے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں اس قسم کے خطرناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ مسافروں اور سول ایوی ایشن کے حلقوں میں اس بات کا شدید خوف پایا جاتا ہے کہ اگر کاک پٹ کے اندر موجود عملہ ہی اس طرح کے تشدد پر اتر آئے تو کروڑوں فضائی مسافروں کا سفر غیر محفوظ ہو جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس جامع تحقیقاتی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد فلائی دبئی اور دیگر ایئرلائنز کے قوانین میں اہم تبدیلیاں کی جائیں گی۔