World
ڈونلڈ ٹرمپ اور نوبل امن انعام 2024: ماہرین کی آراء
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی رہنما اس سال نوبل امن انعام حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ تاہم، ان کی پالیسیاں اور سیاسی حیثیت اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کہ یہ باوقار انعام کس کو ملے گا۔
بین الاقوامی تعلقات اور سیاست کے ماہرین نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سال کا نوبل امن انعام جیتنے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے اور وہ یہ اعزاز حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اس کے باوجود، عالمی سطح پر ان کا سیاسی اثر و رسوخ اتنا وسیع ہے کہ وہ بالواسطہ طور پر اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ رواں سال یہ انتہائی معتبر ایوارڈ کس شخصیت یا ادارے کو دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی عالمی سفارت کاری اور ان کے متنازعہ مگر طاقتور سیاسی فیصلوں نے دنیا بھر کے امن کے منظر نامے کو گہرا متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے نوبل کمیٹی کے فیصلے بھی کسی نہ کسی حد تک متاثر ہو سکتے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق اس سال کے امن انعام کے لیے نامزدگیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور دنیا بھر کی نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ نوبل کمیٹی کس کی خدمات کو سراہتی ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ خود اس انعام کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور ان کے حامی بھی ماضی میں ان کے لیے اس اعزاز کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق اور مبصرین کی رائے کے مطابق موجودہ حالات میں ان کا یہ اعزاز جیتنا ناممکن نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس، ان کی موجودگی اور ان کے سیاسی اقدامات عالمی سیاست کے مرکز میں برقرار ہیں، جو دنیا بھر میں امن یا کشیدگی کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ ٹرمپ کو خود یہ انعام نہیں ملے گا، لیکن وہ اس سال کے فاتح کے انتخاب کے عمل میں ایک اہم غیر مرئی عنصر کے طور پر موجود رہیں گے۔