LIVE
Loading Breaking News...

چینی ریفائنریز کی جانب سے فیول برآمدات معطل، تیل مہنگا

News Image
رپورٹس کے مطابق چینی ریفائنریز نے اکتوبر کے مہینے میں ایندھن کی برآمدات کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کی صورتحال اس وقت ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی جب اطلاعات سامنے آئیں کہ چین کی بڑی ریفائنریز نے اکتوبر کے دوران ایندھن کی برآمدات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ممکنہ طور پر ملکی ضروریات کو پورا کرنا اور مقامی سطح پر رسد کو مستحکم بنانا ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر فوری اثر پڑا اور برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین جیسے بڑے معاشی اور تجارتی ملک کی طرف سے اس قسم کے اقدامات کا مقصد عالمی توانائی کی منڈی میں توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے، تاہم اس سے فوری طور پر سپلائی چین پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ایشیا میں گیسولین کے مارجن نے بھی ریکارڈ بلندیوں کو چھو لیا ہے، جس سے خطے میں ایندھن کی تجارت اور قیمتوں کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات میں بتدریج بحالی اور امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کے باعث قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود چینی ریفائنریز کا یہ قدم عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ یہ عالمی طلب اور رسد کے توازن کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر آنے والے دنوں میں توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا یہ معطلی عارضی ہے یا اس کے طویل المدتی اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر مرتب ہوں گے۔ حکومتیں اور تجارتی ادارے اس حوالے سے اپنی حکمت عملیوں کو از سر نو ترتیب دے رہے ہیں۔