Business
روپیہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر، عالمی وجوہات ذمہ دار
عالمی مالیاتی دباؤ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے روپے کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایشیائی کرنسیوں میں بھارتی روپیہ دباؤ کا شکار ہو کر دو ماہ کی کم ترین سطح پر بند ہوا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری شدید دباؤ اور خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے اثرات مقامی کرنسی پر بھی واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق عالمی بانڈ مارکیٹ میں گہرے ہوتے ہوئے بحران اور امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافے کی وجہ سے روپیہ کمزور ہو کر دو ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس صورتحال نے ایشیائی کرنسیوں کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں مختلف ممالک کی کرنسیوں کی قدر میں مسلسل گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت اور سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی نے درآمدات کے بل کو بڑھا دیا ہے، جس سے تجارتی خسارے میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈیوں میں سرمایہ کے اخراج نے بھی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ان تمام عوامل نے مل کر روپے کی قدر کو دباؤ میں رکھا ہے اور مارکیٹ میں بے یقینی کا ماحول قائم ہے۔ تجارتی حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر عالمی سطح پر یہ معاشی اشاریے اسی طرح منفی رہے تو کرنسی مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ مرکزی بینک اور مالیاتی اداروں کے حکام اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔