World
فلائی دبئی طیارہ حملہ: مسافر کا ہولناک تجربہ اور بچوں کو گلے لگانے کی کہانی
فلائی دبئی کے ایک مسافر ایڈم پولونچک نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ حملے کے دوران جب ان کا طیارہ سترہ ہزار فٹ سے زائد نیچے گرا تو انہوں نے اپنے بچوں کو گلے لگا کر تسلی دی۔ یہ ہولناک واقعہ فضائی سفر کی تاریخ کے خطرناک ترین لمحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
فلائی دبئی کے ایک مسافر نے حال ہی میں پیش آنے والے ایک انتہائی خوفناک فضائی واقعے کی تفصیلات میڈیا سے شیئر کی ہیں، جنہیں سن کر ہر شخص کا دل دہل جائے۔ مسافر ایڈم پولونچک نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ جب ان کا طیارہ فضا میں حملے کی زد میں آیا اور تیزی سے نیچے کی طرف غوطہ زن ہوا تو وہ لمحات ان کی زندگی کے طویل ترین اور خوفناک ترین لمحے تھے۔
ایڈم پولونچک کے مطابق، جب طیارے نے سترہ ہزار فٹ (تقریباً 5,200 میٹر) سے زائد کی بلندی سے اچانک تیزی سے نیچے کی طرف ڈائیو کرنا شروع کیا، تو جہاز کے اندر افراتفری مچ گئی۔ ایسے کٹھن اور جان لیوا وقت میں مسافر کو اپنی جان سے زیادہ اپنے معصوم بچوں کی فکر لاحق تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس خوفناک صورتحال میں انہوں نے اپنے چھوٹے بچوں کو مضبوطی سے گلے لگایا اور انہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، حالانکہ وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے انتہائی خطرناک تھا کہ مسافروں کو چند لمحوں کے لیے اپنی موت آنکھوں کے سامنے نظر آرہی تھی۔ فضائی سفر کے دوران پیش آنے والے اس قسم کے سکیورٹی خدشات اور حملے اب بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے واقعات سے نہ صرف مسافروں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ مسافر طیاروں کی سکیورٹی پر بھی بڑے سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔
متاثرہ مسافر ایڈم پولونچک اور ان کے بچوں کا اس ہولناک حادثے سے بحفاظت باہر نکلنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں فضائی مسافروں کے اندر ایک خوف کی لہر دوڑا دی ہے اور ایوی ایشن حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ حساس فضائی حدود میں مسافر طیاروں کی حفاظت کے لیے مزید سخت اور ہنگامی اقدامات اٹھائیں تاکہ آئندہ کسی بھی معصوم شہری کی جان خطرے میں نہ پڑے۔