World
روسی ناقد گیری کاسپاروف کو امریکہ کی طرف سے زندگی خطرے میں ہونے کی تنبیہ
روسی شطرنج کے سابق عالمی چیمپئن اور سیاسی ناقد گیری کاسپاروف نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکام نے انہیں ان کی زندگی کو درپیش شدید خطرات سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کے اقتدار میں رہنے تک وہ اور ان کا خاندان مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتے۔
روسی اپوزیشن کے ممتاز رہنما اور شطرنج کے سابق عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام نے انہیں باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حریفوں کی فہرست میں ان کا نام سرفہرست ہے اور ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ گیری کاسپاروف جو طویل عرصے سے روسی حکومت کے ناقد چلے آ رہے ہیں، نے حالیہ بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ کریملن کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے ان کی سلامتی کو مسلسل خدشات کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت رابطہ کر کے انہیں اس صورتحال سے آگاہ کیا۔
اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں گیری کاسپاروف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اقتدار میں موجود ہیں، نہ صرف وہ خود بلکہ ان کا پورا خاندان کسی بھی طرح محفوظ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ روسی حکومت کے ناقدین کو بیرون ملک بھی نشانہ بنائے جانے کی تاریخ پرانی ہے اور وہ ہمیشہ اس خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کاسپاروف دنیا بھر میں جمہوریت کے فروغ اور روس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتے رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ماسکو کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گیری کاسپاروف نے سال 2013 میں روس چھوڑ دیا تھا اور اس کے بعد سے وہ زیادہ تر امریکہ اور یورپ میں مقیم رہ کر روسی حکومت کے خلاف سیاسی مہم چلاتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر روس میں جمہوری اصلاحات اور حکومت کی تبدیلی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے انتباہات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روسی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف عالمی سطح پر کتنی جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈا استعمال کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے اس طرح کی وارننگ ملنے کے بعد گیری کاسپاروف کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے رہنماؤں اور سیاسی شخصیات نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جلاوطن روسی سیاسی رہنماؤں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام مغربی ممالک کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے۔ کاسپاروف کا یہ عزم بھی سامنے آیا ہے کہ وہ اس قسم کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور روس میں تبدیلی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔