Technology
ٹرمپ کے اے آئی رینیم کی وجہ سے سلووینیا کے ڈومینز کی مانگ میں اضافہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا نام تبدیل کرکے سپر انٹیلی جنس یا ایس آئی رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس تجاویز کے بعد سلووینیا کے ڈومین نیمز کے لیے دنیا بھر میں غیر معمولی طلب دیکھی جا رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے روایتی نام کو تبدیل کرکے اسے 'سپر انٹیلی جنس' یا مختصر طور پر 'ایس آئی' (SI) کہلانے کی تجویز نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث اور ہلچل مچا دی ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس نئے نظریے اور برانڈنگ کے بعد عالمی سطح پر اس شعبے میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور کارپوریٹ اداروں کی توجہ ایسے ڈومینز کی طرف مبذول ہو گئی ہے جو ان مخصوص حروف سے مطابقت رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مخفف یعنی 'ایس آئی' وہی حروف ہیں جو یورپی ملک سلووینیا کے انٹرنیٹ ڈومین نیمز کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس پیش رفت کے فوراً بعد سلووینیا کے انٹرنیٹ ڈومین رجسٹرارز کے پاس درخواستوں کا تانتا بندھ گیا ہے اور ویب سائٹ کے ناموں کی خریداری میں بے پناہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ڈومین انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا رجحان تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا جہاں ایک سیاسی بیان یا نام کی تبدیلی کی تجویز نے کسی ملک کے قومی انٹرنیٹ ڈومین کی طلب کو راتوں رات اتنے بلند مقام پر پہنچا دیا ہو۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی ادارے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سلووینیا کے ڈومینز حاصل کرنے میں پیش پیش ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹرمپ کی یہ تجویز عالمی سطح پر یا کم از کم امریکی پالیسیوں میں سرکاری طور پر قبول کر لی جاتی ہے، تو آنے والے دنوں میں 'ایس آئی' برانڈ کے تحت بننے والی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں سلووینیا کے ان ڈومینز کو اپنی ڈیجیٹل شناخت کا حصہ بنانے کے لیے بھاری رقوم خرچ کرنے کو تیار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف سلووینیا کے آئی ٹی سیکٹر کو ایک غیر متوقع معاشی فائدہ پہنچایا ہے بلکہ ڈومین نیم مارکیٹ میں بھی ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
فی الحال یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ٹرمپ کی یہ تجویز عملی طور پر نافذ ہوتی ہے یا نہیں، لیکن اس ابتدائی اعلان نے ہی ڈیجیٹل دنیا میں ایک نیا ٹرینڈ قائم کر دیا ہے۔ سلووینیا کے حکام اور ڈومین فراہم کرنے والے ادارے اس اچانک بڑھتی ہوئی مانگ کو سنبھالنے کے لیے کام کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف دنیا بھر کے کاروباری حلقے بھی اس منفرد صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ بھی اس دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔