World
جگتار سنگھ جوہل بھارتی جیل سے نو سال بعد ضمانت پر رہا
اسکاٹش سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کو دو ہزار سترہ سے بھارتی جیل میں رکھا گیا تھا جنہیں اب ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ وہ دہشت گردی کے مبینہ الزامات کے تحت طویل عرصے تک حراست میں رہے تھے۔
اسکاٹش شہر ڈمبرٹن سے تعلق رکھنے والے سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کو بھارتی جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ وہ گزشتہ نو سال سے زائد عرصے سے بھارت کی ایک جیل میں قید تھے جہاں انہیں دو ہزار سترہ میں مبینہ دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس طویل حراست کے دوران ان کے اہل خانہ اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل ان کی رہائی یا شفاف ٹرائل کے لیے آواز اٹھائی جاتی رہی تھی۔
جگتار سنگھ جوہل کی گرفتاری کا یہ معاملہ برطانیہ اور بھارت کے درمیان سفارتی اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی زیر بحث رہا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے ان کی طویل قید اور مبینہ طور پر دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی انتہائی سست رفتار رہی ہے اور انہیں انصاف سے محروم رکھا گیا ہے۔
اب ضمانت پر رہائی کے بعد جگتار سنگھ جوہل کے حامیوں اور خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم ان کے مقدمے کی قانونی جنگ ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ضمانت ملنے کے بعد اب ان کے وکلاء مقدمے کے اگلے مرحلے کی تیاری کریں گے تاکہ انہیں ان تمام الزامات سے کلین سرٹیفکیٹ دلایا جا سکے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بیرون ملک مقیم سکھ کارکنوں اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی صورتحال پر اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔