LIVE
Loading Breaking News...

فرانس میں اسکولوں کے طلباء کا احتجاج، اساتذہ کی کمی اور کلاسیز کا مسئلہ

News Image
فرانس بھر میں اسکولوں میں کلاسوں کے اندر طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اساتذہ کی کمی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق پیرس سمیت مختلف شہروں میں طلباء نے تعلیمی نظام کے مسائل کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
فرانس کے تعلیمی نظام میں اس وقت شدید بحران کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے جہاں ملک بھر کے اسکولوں میں طلباء نے احتجاجی مظاہروں کا آغاز کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں فرانس کے مختلف شہروں بالخصوص دارالحکومت پیرس میں یہ احتجاجی لہر اس وقت تیزی سے پھیلی جب طلباء اور ان کے والدین نے کلاس رومز میں طلباء کی ضرورت سے زیادہ تعداد اور اساتذہ کی شدید کمی کے خلاف آواز اٹھائی۔ بی بی سی کے نامہ نگار ہیو سکوفیلڈ کے مطابق، اسکولوں کے اندر پائی جانے والی ان انتظامی خامیوں کی وجہ سے تدریسی عمل شدید متاثر ہو رہا ہے اور طلباء کی پڑھائی کا حرج ہو رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی کلاس میں ضرورت سے زیادہ طلباء کو بٹھانے کی وجہ سے نہ صرف اساتذہ کے لیے پڑھانا مشکل ہو جاتا ہے بلکہ بچوں کو بھی معیاری تعلیم حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں اساتذہ کی خالی اسامیاں پر نہ کیے جانے کی وجہ سے تعلیمی ادارے اندرونی طور پر دباؤ کا شکار ہیں۔ طلباء نے اسکولوں کے باہر اور احاطے کے اندر جمع ہو کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی اور فوری طور پر اساتذہ کی نئی بھرتیوں کا مطالبہ کیا۔ فرانسیسی حکومت اور وزارتِ تعلیم پر اس وقت شدید دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر اساتذہ کی کمی اور وسائل کی قلت کو جلد حل نہ کیا گیا تو یہ احتجاج پورے ملک کے تعلیمی ڈھانچے کو مفلوج کر سکتا ہے۔ والدین اور طلباء تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ جب تک حکومت اسکولوں میں بہتری کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتی، ان کا احتجاج اور مطالبات کا سلسلہ جاری رہے گا، جس سے حکام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔