World
برطانیہ میں گرم ترین ستمبر اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
محکمہ موسمیات کے مطابق برطانیہ میں ستمبر کا مہینہ ریکارڈ پر چوتھا گرم ترین ستمبر رہا ہے۔ اس صورتحال کے بعد برطانیہ میں رواں سال کو تاریخ کے گرم ترین سالوں میں شمار کیے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
برطانیہ میں رواں سال کو تاریخ کے گرم ترین سالوں میں سے ایک قرار دینے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ برطانوی محکمہ موسمیات (میٹ آفس) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین موسمیاتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ستمبر کا مہینہ ملک کی تاریخ کا چوتھا گرم ترین ستمبر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موسم گرما کے اختتام کے بعد بھی درجہ حرارت میں نمایاں تپش محسوس کی گئی جس نے ماہرین موسمیات کی توجہ حاصل کی ہے۔ اس رجحان کے بعد اب یہ پیشگوئی کی جا رہی ہے کہ سال کے اختتام تک برطانیہ کا شمار تاریخ کے گرم ترین سالوں میں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر بارش کی مقدار تو اوسط کے قریب رہی ہے، تاہم اس میں بھی بڑے علاقائی تفاوت دیکھنے میں آئے ہیں۔ کچھ علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ریکارڈ ہوئیں جبکہ دیگر مقامات پر خشک سالی یا کم بارش کا رجحان دیکھا گیا، جس سے موسمیاتی تغیرات کے اثرات مزید واضح ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی حرارت (گلوبل وارمنگ) کے اثرات برطانیہ کے مقامی موسم پر بھی براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آنے والے مہینوں میں بھی درجہ حرارت کا یہ غیر معمولی سلسلہ جاری رہا تو سالانہ اوسط درجہ حرارت ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔ برطانوی عوام اور متعلقہ ادارے موسمیاتی تبدیلیوں کے ان اثرات سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں متوقع موسمیاتی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔