LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹش بافٹا تقریب: جان ڈیوڈسن کی ویڈیو لنک سے شرکت کی درخواست

News Image
جان ڈیوڈسن نے حال ہی میں ایک ایوارڈ تقریب کے دوران نژاد پرستی پر مبنی کلمات کہے تھے جس پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ اب انہوں نے اسکاٹش بافٹا ایوارڈز میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ٹوریٹس سنڈروم کے معروف حامی جان ڈیوڈسن، جو کہ غیر ارادی تیکس (involuntary tics) کی طبی حالت کا شکار ہیں، نے اسکاٹش بافٹا (Bafta) ایوارڈز میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ یہ قدم فروری میں منعقد ہونے والے برٹش اکیڈمی فلم ایوارڈز (بافٹا) کے دوران پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں انہوں نے تقریب کے دوران مبینہ طور پر ایک نسل پرستانہ جملہ یا کلمہ کہہ دیا تھا جس پر شدید عوامی ردعمل اور تنازع پیدا ہو گیا تھا۔ جان ڈیوڈسن طویل عرصے سے ٹوریٹس سنڈروم کے شکار افراد کے حقوق اور ان کی آگاہی کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور اس بیماری کی وجہ سے ان کے اعصاب پر ان کا مکمل اختیار نہیں رہتا۔ فروری کے واقعے نے شوبز اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا تھا کیونکہ ان کی حالت ایسی ہے کہ وہ لاشعوری طور پر ایسے الفاظ ادا کر جاتے ہیں جن پر وہ خود قابو نہیں پا سکتے۔ اس تنازع کے بعد आयोजकों اور شرکاء کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے تھے، جس کے پیش نظر اب انہوں نے براہ راست تقریب میں جانے کے بجائے سکرین کے توسط سے شرکت کو ترجیح دی ہے۔ اس درخواست کا مقصد تقریب کے ماحول کو پرسکون رکھنا اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بچنا ہے۔ منتظمین کی جانب سے فی الحال اس درخواست پر حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ اس معاملے نے ایک بار پھر طبی عوارض اور سماجی آداب کے مابین پیچیدہ تعلقات کو اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ معاشرہ طبی مجبوریوں اور باقاعدہ توہین آمیز رویوں کے درمیان فرق کو سمجھے تاکہ تمام افراد کے لیے ایک منصفانہ اور جامع ماحول فراہم کیا جا سکے۔