World
ایتھوپیا تنازع: ادس ابابا میں دھماکے اور شمالی علاقوں میں کشیدگی
ایتھوپیا کے شمالی علاقوں میں تنازعہ پھیلنے کے بعد دارالحکومت ادس ابابا میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ہزاروں افراد لڑائی اور پیش قدمی کرنے والی افواج کے باعث میکیلی سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ایتھوپیا کے شمالی علاقوں میں جاری تنازعے میں ایک بار پھر خطرناک حد تک شدت آ گئی ہے، جس کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دارالحکومت ادس ابابا میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس سے سکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے شمالی حصوں میں فریقین کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور امن کی تمام کوششیں دھری کی دھری رہ گئی ہیں۔دوسری جانب زمینی حقائق کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں نے میکیلی اور اس کے گردونواح سے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ پیش قدمی کرنے والی افواج اور بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث مقامی آبادی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ علاقے میں مواصلاتی نظام اور ضروری خدمات بری طرح متاثر ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں بھی شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں اور انسانی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایتھوپیا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ ادس ابابا میں ہونے والے دھماکوں اور شمالی محاذ پر پیش قدمی سے خطے میں ایک نئے بڑے انسانی اور سیاسی بحران کے جنم لینے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔