LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی فوج کا افغان طالبان پر دہشت گردوں کی میزبانی کا الزام

News Image
پاکستانی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ایک گورنر نے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے عسکریت پسندوں کی میزبانی کی۔ اس صورتحال کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی کے امور پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستانی فوج نے ایک اہم اور سنجیدہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے ایک صوبائی گورنر نے ایسے عسکریت پسندوں کی باقاعدہ میزبانی کی ہے جو پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس انکشاف کے بعد دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان سکیورٹی کے حوالے سے پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے کیا جا رہا ہے جس پر کابل انتظامیہ کو فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حکومت کے ترجمان اور رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عبوری افغان حکومت کو اب اپنے پرانے عسکریت پسندانہ نظریے سے باہر نکلنا ہوگا اور ایک ذمہ دار ریاست کی طرح برتاؤ کرنا ہوگا۔ اسلام آباد میں ہونے والی مختلف کانفرنسوں اور سیمینارز میں ماہرین اور سیاست دانوں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک جامع علاقائی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس خطے میں امن اور استحکام کے لیے اس نوعیت کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ اگر افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روکا گیا تو اس کے پورے خطے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان مسلسل عالمی برادری اور افغان حکام پر زور دے رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے اور بے گناہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔