LIVE
Loading Breaking News...

عراق سے امریکی افواج کا انخلا اور خطے کی سکیورٹی پر اثرات

News Image
عراق میں دو دہائیوں پر محیط امریکی قیادت میں اتحادی افواج کا مشن باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد عراقی وزیراعظم نے اسے خودمختاری کا ایک نیا دور قرار دیا ہے۔ اس انخلا کے بعد خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی پوزیشن مضبوط ہونے کے امکانات پر بھی عالمی سطح پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
عراق سے امریکی قیادت میں قائم اتحادی افواج کا دو دہائیوں پر محیط فوجی مشن اب اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے، جس نے ملک کے دفاعی اور سیاسی منظرنامے میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ امریکی فوجیوں کے اس مکمل انخلا کے بعد جہاں ایک طرف عراقی حکومت اسے ایک نئے دور اور مکمل خودمختاری کی بحالی سے تعبیر کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف دفاعی ماہرین کے نزدیک ملکی سکیورٹی کے حوالے سے کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ عراقی وزیراعظم نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اب اپنے سکیورٹی امور خود چلانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ قدم عراقی قوم کی خودمختاری کی علامت ہے۔ دوسری جانب پینٹاگون کے حکام نے بھی اس مشن کے اختتام اور منتقلی کے عمل کی تصدیق کر دی ہے۔ اس انخلا کے بعد مقامی سکیورٹی فورسز کو ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کی پوری ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، جو کہ عراقی فورسز کی صلاحیتوں کا ایک بڑا امتحان بھی مانا جا رہا ہے۔ تاہم اس تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو خطے میں طاقت کا توازن ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکی افواج کے نکل جانے سے عراق میں ایران اور اس کے حلیف گروہوں کے اثر و رسوخ میں مزید اضافے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تہران اور اس کے اتحادی اس پیش رفت کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ مغربی دارالحکومتوں میں اس بات کی تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے علاقائی کشیدگی میں اضافہ نہ ہو جائے۔ مجموعی طور پر، عراق کی سکیورٹی کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ عراقی حکومت اور اس کی سکیورٹی فورسز اندرونی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بیرونی اثرات کو کس حد تک متوازن رکھ پاتی ہیں۔