Business
زرعی کانفرنس اور ایکسپو کل سے شروع، زرعی شعبے میں بہتری کی توقع
پاکستان میں زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کل سے ایک اہم زرعی کانفرنس اور نمائش کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس تقریب میں فوڈ سیفٹی، ڈیجیٹلائزیشن اور سمارٹ آبپاشی کے طریقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑی زرعی کانفرنس اور نمائش کا کل سے باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ اس تین روزہ تقریب میں ملک بھر سے ماہرینِ زراعت، کسان، کاروباری شخصیات اور پالیسی ساز شرکت کریں گے۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد ملکی زراعت کو درپیش مسائل، خصوصاً فوڈ سیفٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور ان کے برآمدات پر پڑنے والے منفی اثرات کا احاطہ کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معیاری پیداوار اور بین الاقوامی معیار کے بغیر ملکی برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، تقریب میں زراعت کے شعبے کو ڈیجیٹلائز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جائے گا۔ موجودہ دور میں روایتی طریقوں سے ہٹ کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ فصلوں کی بہتر دیکھ بھال، پیداوار میں اضافہ اور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ جدید ڈیجیٹل ٹولز کسانوں کو موسم کی پیشگوئی، مارکیٹ کے نرخ اور کھادوں کے درست استعمال کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
تقریب کا ایک اور اہم موضوع کم پانی کے استعمال سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے سمارٹ آبپاشی (Smart Irrigation) کے جدید طریقوں کا فروغ ہے۔ پاکستان کو پانی کی قلت کے جو چیلنجز درپیش ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے قطرہ آبپاشی اور دیگر جدید نظاموں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اگر کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ آبپاشی تک رسائی دی جائے تو ملک کی زرعی پیداوار میں نمایاں انقلاب آ سکتا ہے۔
'ایگری کنکشنز 2026' جیسے اقدامات کو پاکستان کے زرعی شعبے کی تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس نمائش کے دوران ہونے والے معاہدوں اور مباحثوں سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ملکی معیشت میں بھی زرعی شعبے کا حصہ مزید مستحکم ہوگا۔ شرکاء نے حکومت اور نجی شعبے سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔