LIVE
Loading Breaking News...

صدر اور وزیراعظم کی ملاقات، ملکی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر غور

News Image
صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اہم ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔
اسلام آباد: صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان ایک اہم ملاقات منعقد ہوئی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی اور ریاستی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور تمام اہم قومی امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس ملاقات میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت سے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا تاکہ پارلیمانی نظام اور جمہوری عمل کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں کا سلسلہ پہلے ہی غیر رسمی طور پر جاری ہے، اور دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ملک کو اس وقت کسی بھی قسم کے سیاسی انتشار سے بچانے کے لیے بات چیت کا راستہ اپنانا ناگزیر ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نمائندے بھی حکومتی وفد کے ساتھ مل کر اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کریں گے تاکہ تمام فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کی جا سکے۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز جمعہ کے روز متوقع ہے، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اہم مطالبات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی جائے گی۔ دوسری جانب ملک کے مختلف سیاسی حلقوں میں ان مذاکرات کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پچھले کچھ دنوں سے اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے باعث سیاسی درجہ حرارت کافی بڑھ چکا تھا۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پس پردہ غیر رسمی بات چیت جاری ہے تاکہ کسی بھی تصادم کی صورتحال کو روکا جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ملک میں جاری سیاسی ڈیڈلاک ختم ہوگا بلکہ معاشی استحکام کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔