Business
پاکستان میں مہنگائی کی تازہ ترین صورتحال اور معاشی دباؤ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں پاکستان میں صارف اشاریہ کے تحت مہنگائی کی شرح کم ہو کر دس اعشاریہ تین فیصد پر آ گئی ہے جو اگست میں گیارہ اعشاریہ ایک فیصد تھی۔ مہنگائی کے اس تسلسل نے نچلے طبقے کے خاندانوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، بالخصوص پشاور میں متعدد گھرانے روزمرہ اخراجات کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں معاشی دباؤ کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح تاحال دس فیصد سے زائد کی سطح پر برقرار ہے۔ ستمبر کے مہینے میں صارف مہنگائی یا کنزیومر انفلیشن میں معمولی کمی دیکھی گئی اور یہ اگست کے گیارہ اعشاریہ ایک فیصد سے کم ہو کر دس اعشاریہ تین فیصد پر آ گئی۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے سے جڑے خطرات اور عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث عام آدمی کے لیے ریلیف کے مواقع فی الحال محدود ہیں۔
مہنگائی کی اس بلند شرح نے ملک کے نچلے اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ بالخصوص پشاور اور دیگر پسماندہ علاقوں سے تشویشناک رپورٹس سامنے آ رہی ہیں جہاں روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا عام شہریوں کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پشاور میں کم آمدنی والے خاندانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت اپنے بنیادی روزمرہ اخراجات چلانے کے لیے ادھار اور قرض لینے پر مجبور ہو چکی ہے، جو ملکی معیشت کی گہرائی میں اترتے ہوئے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں قیمتوں کا عدم استحکام اور نرخوں میں بار بار ہونے والا اضافہ اس مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے نہ صرف گھریلو بجٹ کو درہم برہم کر دیا ہے بلکہ صنعتی پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ تجارتی و معاشی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس حوالے سے فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے اس بوجھ سے نجات دلائی جا سکے اور معیشت کو استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے۔