World
فرانس اسکول احتجاج اور شہری تشدد: وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس
فرانس بھر میں اسکول کے طلبا کے احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے اور اسکولوں میں آگ لگنے کے واقعات کے بعد وزیراعظم نے ہنگامی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس کشیدگی کے پیچھے سخت بائیں بازو کی جماعت کا ہاتھ ہے۔
فرانس میں اسکول کے حالات اور تعلیمی نظام کے خلاف جاری طلبا احتجاج اب شدت اختیار کرتے ہوئے 'شہری تشدد' کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں طلبا نے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور بعض اسکولوں میں آگ لگنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے حکام کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ہنگامہ آرائی کے پیش نظر فرانس کے وزیراعظم نے ایک ہنگامی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ملک بھر کے اسکولوں میں پھیلنے والی اس بدامنی اور احتجاج کے پیچھے سخت بائیں بازو کی ایک سیاسی جماعت کا ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دریں اثنا، فرانسیسی نوجوانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں جہاں مظاہرین اسکولوں کے بہتر حالات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے اور کئی مقامات پر مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ حکومت نے عوام اور طلبا سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس صورتحال پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔