World
کرسٹا پائیک تشویشناک حالت میں، زہریلے انجکشن کا واقعہ
امریکی ریاست میں سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک کو دو مرتبہ زہریلے انجکشن دیے جانے کی کوشش کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے وکیل کے مطابق وہ اس وقت انتہائی تشویشناک حالت میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کی منتظر قیدی کرسٹا پائیک کے بارے میں ان کے قانونی مشیر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ انتہائی تشویشناک حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں دی جانے والی سزائے موت کے دوران دو مرتبہ زہریلے انجکشن کے ذریعے عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی، جو تکنیکی یا دیگر وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہو سکی۔ اس دوران پیش آنے والی طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی حالت بگڑ گئی اور انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کرنا پڑا۔ کرسٹا پائیک 1996 سے ڈیتھ رو پر قید چلی آرہی ہیں۔ انہیں کولین سلیمر کے قتل کے مقدمے میں عدالت کی جانب سے موت کی سزا سنائی گئی تھی، جس پر عمل درآمد کے لیے طویل عرصے سے قانونی چارہ جوئی جاری تھی۔ حالیہ واقعے کے بعد انسانی حقوق کے حلقوں اور قانونی ماہرین کی طرف سے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ کرسٹا پائیک کی صحت اس وقت انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے عدالت میں مزید قانونی موقوفی یا اپیلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ قیدی کی موجودہ طبی حالت نے سزائے موت کے طریقۂ کار اور اس کے انسانی اثرات کے حوالے سے ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ حکام کی طرف سے اس واقعے کی مزید تفصیلات اور اسپتال میں ان کی صحت سے متعلق اپ ڈیٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ قانونی ٹیم عدلیہ سے فوری مداخلت کی درخواست پر بھی کام کر رہی ہے۔