LIVE
Loading Breaking News...

مانچسٹر سٹی کیس: ایچ ایم آر سی سے ٹیکس اثرات کا جائزہ لینے کا مطالبہ

News Image
برطانیہ کی ٹریژری کمیٹی نے ٹیکس حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مانچسٹر سٹی کے قانونی معاملے کے ٹیکس اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ اس اقدام کا مقصد کلب کے مالی معاملات میں کسی بھی قسم کی ٹیکس بے ضابطگیوں کی جانچ کرنا ہے۔
برطانیہ کی پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی نے ریونیو اینڈ کسٹمز (ایچ ایم آر سی) سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ فٹ بال کلب مانچسٹر سٹی کے گرد گھومنے والے قانونی معاملے اور اس کے ممکنہ ٹیکس اثرات کی سخت جانچ پڑتال کریں۔ ٹریژری کمیٹی، جو ٹیکس اور مالیاتی امور کے نگران ادارے کے طور پر کام کرتی ہے، چاہتی ہے کہ حکام اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیں کہ آیا اس پورے تنازع میں ٹیکس کے قوانین کی کوئی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی۔ مانچسٹر سٹی سے جڑے مالیاتی امور اور فیصلے نے کھیلوں کی دنیا کے ساتھ ساتھ سیاسی اور مالیاتی حلقوں میں بھی کافی ہلچل مچا رکھی ہے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے بڑے مالیاتی اور قانونی معاملات کے براہ راست اثرات قومی خزانے اور ٹیکس وصولی پر پڑ سکتے ہیں، اس لیے اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایچ ایم آر سی کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ تمام دستیاب مالیاتی ریکارڈ کا جائزہ لے تاکہ کسی بھی قسم کے ٹیکس نقصان یا گرے ایریاز کو واضح کیا جا سکے۔ فٹ بال انڈسٹری میں اربوں پاؤنڈز کی ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں اور حالیہ برسوں میں کلبوں کے مالی معاملات پر حکومتی اداروں کی نظریں مزید سخت ہو گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر اس معاملے میں ٹیکس سے متعلق کوئی بھی بے ضابطگی پائی گئی تو مانچسٹر سٹی کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایچ ایم آر سی کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر حتمی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ٹیکس حکام اس حوالے سے اپنی کارروائی اور حکمت عملی کو مزید تیز کر دیں گے۔