World
روسی صدر پوتن کی مغرب کو وارننگ، کالنگراد کے دفاع پر بیان
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ روس کالنگراد کے دفاع کے لیے اپنے پاس موجود تمام وسائل اور ہتھیار استعمال کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماسکو کسی کو دھمکی نہیں دے رہا بلکہ مغربی رہنماؤں کے بیانات کا مناسب جواب دے رہا ہے۔
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مغربی ممالک کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ روس اپنے خطے کالنگراد کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے اور تمام دستیاب ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ روسی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں اطراف سے بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
روسی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو کسی بھی ملک کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی کو دھمکی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کی یہ تیاریاں اور بیانات دراصل مغربی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات کا ردعمل ہیں، جن کا مقصد روس کی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے۔ ماسکو نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
کالنگراد جو کہ بلقت کے خطے میں واقع روس کا ایک الگ تھلگ علاقہ ہے، جغرافیائی طور پر نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس خطے تک رسائی اور ٹرانزٹ پابندیوں پر مغربی ممالک اور روس کے درمیان سخت تناؤ دیکھا گیا ہے۔ روسی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس علاقے کو کسی بھی بیرونی خطرے سے بچانے کے لیے تمام ضروری عسکری اور دفاعی اقدامات کیے جائیں گے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ روسی صدر کا یہ تازہ ترین بیان مغربی دارالحکومتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ماسکو اپنی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگرچہ روس نے خود کو کسی جارحانہ عزائم سے لاتعلق ظاہر کیا ہے، تاہم مغربی دفاعی اتحاد نیٹو بھی اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر رہا ہے۔